مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 461
مجموعه اشتہارات ٤٦١ جلد اول انسان ظالم کی عادت ہوتی ہے کہ باوجود دیکھنے کے نہیں دیکھتا اور باوجود سننے کے نہیں سنتا اور باوجود سمجھنے کے نہیں سمجھتا اور جرات کرتا ہے اور شوخی کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا ہے لیکن اب میں جانتا ہوں کہ فیصلہ کا وقت آگیا۔ میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بخشیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں ۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کیلئے تھا۔ میں اسوقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈالدیا جاوے مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کیلئے تیار ہوں اور میں اللہ جَلَّ شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ قسم کھا ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اسکی باتیں نہ ملیں گی۔ اب ڈپٹی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ نشان پورا ہو گیا تو کیا یہ سب آپ کے منشاء کے موافق کامل پیشین گوئی اور خدا کی پیشین گوئی ٹھہرے گی یا نہیں ٹھہرے گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کے بارہ میں جن کو اندرونہ بائبل میں دجال کے لفظ سے آپ نامزد کرتے ہیں مو محکم دلیل ہو جائے گی یا نہیں ہو جائے گی ؟ اب اس سے زیادہ میں کیا لکھا سکتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی فیصلہ کر دیا ہے۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو لیکن اگر میں سچا ہوں تو انسان کو خدامت بناؤ۔ توریت کو پڑھو کہ اس کی اوّل اور کھلی کھلی تعلیم کیا ہے اور تمام نبی کیا تعلیم دیتے آئے اور تمام دنیا کس طرف جھک گئی۔ اب میں آپ سے رخصت ہوتا ہوں اس سے زیادہ نہ کہوں گا۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى A ( مطبوعہ ریاض ہند پریس امرت سر ) ( یہ اشتہار ۳ کے آٹھ صفحوں پر ہے ) (روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۸۶ تا ۲۹۳)