مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 415
مجموعه اشتہارات ۴۱۵ جلد اول نے اپنے خط کی دفعہ ۲ میں صاف لکھ دیا کہ میں تمہاری ہر ایک بات کی اجابت کے لیے مستعد ہوں ۔سو اس اشتہار کے متعلق باتیں جن کو آپ نے قبول کر لیا۔ صرف تین ہی ہیں۔ زیادہ نہیں ۔ اول یہ کہ ایک مجلس قرار پا کر قرعہ اندازی کے ذریعہ سے قرآن کریم کی ایک سورۃ جس کی آیتیں اتنی سے کم نہ ہوں تفسیر کرنے کے لیے قرار پاوے۔ اور ایسا ہی قرعہ اندازی کے رو سے قصیدہ کا بحر تجویز کیا جائے۔ دوسری یہ کہ وہ تفسیر قرآن کریم کے ایسے حقایق و معارف پر مشتمل ہو جو جدید ہوں۔ اور منقولات کی مد میں داخل نہ ہو سکیں۔ اور با ایں ہمہ عقیدہ متفق علیہا اہل سنت والجماعت سے مخالف بھی نہ ہو۔ اور یہ تفسیر عربی بلیغ فصیح اور مقفیٰ عبارت میں ہو۔ اور ساتھ اس کے منو شعر عربی بطور قصیدہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہو۔ تیسری یہ کہ فریقین کے لیے چالیس دن کی مہلت ہو۔ اس مہلت میں جو کچھ لکھ سکتے ہیں لکھیں اور پھر ایک مجلس میں سناویں۔ پس جبکہ آپ نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ کی ہر ایک بات کی اجابت کے لیے مستعد ہوں تو صاف طور پر کھل گیا کہ آپ نے یہ تینوں باتیں مان لیں۔ اب انشاء اللہ القدیر اسی پر سب فیصلہ ہو جائے گا۔ آج اگر چه روز عید سے دوسرا دن ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ کے مان لینے اور قبول کرنے سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ میں آج کے دن کو بھی عید کا ہی دن سمجھتا ہوں ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لله کہ اب ایک کھلے کھلے فیصلہ کے لیے بات قائم ہوگئی ۔ اب لوگ اس بات کو بہت جلدا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ اس عاجز کو بقول آپ کے کافر اور کذاب ثابت کرتا ہے یا وہ امر ظاہر بقیہ حاشیہ۔ وہ تم کو دجال ۔ کذاب کافر و زندیق سمجھتے ہیں۔ پھر وہ ایسی حکومتوں کو کیونکر تسلیم کریں۔ کیا تم نے سب کو اپنا مرید ہی سمجھ رکھا ہے۔ ذرا عقل سے کام لو۔ کچھ تو شرم کرو۔ دین سے تعلق نہیں رہا تو کیا دنیا سے بھی بے تعلق ہو ؟ اس خط کی رسید ڈاکخانہ سے لی گئی ہے۔ وصول سے انکار کرو گے تو وہ رسید تمہاری مکذب ہوگی ۔ ( ابو سعید محمد حسین عفا اللہ عنہ ایڈیٹر اشاعۃ السنہ )