مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 412
مجموعه اشتہارات ۴۱۲ جلد اول (1) بیکسی شد دین احمد احمد" هیچ خویش و یار نیست ہر کسے درکار خود با دین احمد کار نیست نيا (۲) ہر طرف سیل ضلالت صد هزاران تن ربود حیف بر چشمے کہ اکنون نیز ہم ہشیار نیست (۳) اے خدا وندان نعمت این چنیں غفلت چراست بیخود از خوابید یا خود بخت دین بیدار نیست (۴) اے مسلمانان خدا را یک نظر بر حالِ دین آنچه می بینم بلاها حاجت اظہار نیست (۵) آتش افتاد است در رختش بخیزید ای یلان دیدنش از دور کار مردم دیندار نیست (۶) هر زمان از بهر دین در خون دل من می تپد محرم این درد ما جز عالم اسرار نیست (۷) آنچه بر ما می رود از غم که داند بجز خدا زهر می نوشیم لیکن زهره گفتار نیست (۸) ہر کسے غمخواری اہل و اقارب می کند ای دریغ این بیکسی را هیچ کس غمخوار نیست (۹) خون دین بینم روان چون کشتگانِ کربلا اے عجب این مردمان را مهر آن دلدار نیست (۱۰) تیر تم آید چو بینم بذل شان در کار نفس کاین همه جود و سخاوت در ره دادار نیست (11) اے کہ داری مقدرت ہم عزم تائیدات دیں لطف کن مارا نظر بر اندک و بسیار نیست لے ترجمہ اشعار ۔ (۱) دین احمد بیکس ہو گیا کوئی اس کا غم خوار نہیں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے احمد کے دین سے کچھ واسطہ نہیں۔ (۲) گمراہی کا سیلاب ہر طرف لاکھوں انسانوں کو بہا کر لے گیا اُس آنکھ پر افسوس جواب بھی ہشیار نہیں ہوئی۔ (۳) اے دولت مندو! اس قدر غفلت کیوں ہے تم ہی نیند سے بے ہوش ہو یا دین کی قسمت سو گئی ہے۔ (۴) اے مسلمانو ! خدا کے لئے دین کی طرف ایک نظر تو دیکھ لو میں جو بلائیں دیکھ رہا ہوں ان کے اظہار کی حاجت نہیں۔ (۵) اے جوانمر دو! اٹھو اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہے دین داروں کا یہ کام نہیں کہ اسے دور سے دیکھتے رہیں۔ (۶) میرا دل دین کی خاطر ہر وقت خون میں تڑپ رہا ہے۔ ہمارے اس درد کا واقف خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ (۷) غم جو ہم پر گذر رہا ہے اسے خدا کے سوا کون جان سکتا ہے ہم زہر پی رہے ہیں لیکن بولنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (۸) ہر شخص اپنے اہل و عیال کی غمخواری کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ دین بیکس کا کوئی غمخوار نہیں۔(۹) کشتگانِ کربلا کی طرح میں دین کا خون بہتا ہواد دیکھتا ہوں مگر تعجب ہے کہ ان لوگوں کو اس محبوب سے کچھ بھی محبت نہیں۔ (۱۰) جب میں نفسانی کاموں میں ان کی سخاوت دیکھتا ہوں تو حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ دریا دلی اور سخاوت خدا کی راہ میں نہیں ہے۔ (۱۱) اے وہ شخص ! جو توفیق بھی رکھتا ہے اور نصرت دین کا ارادہ بھی رکھتا ہے جتنا ہو سکے دے، ہمیں تھوڑے بہت کا خیال نہیں۔