مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 17
مجموعه اشتہارات ۱۷ جلد اول اور اس دعوی کو جو پنڈت دیانند صاحب مدت دراز سے کر رہے ہیں کہ وید سر چشمہ تمام علوم فنون کا ہے ثابت کرتے لیکن افسوس کہ کچھ بھی نہ بول سکے اور دم بخود رہ گئے اور عاجز اور لاچار ہو کر اپنے گاؤں کی طرف سدھار گئے ۔ گاؤں میں جا کر پھر ایک مضمون بھیجا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ابھی بحث کرنے کا شوق باقی ہے اور مسئلہ تناسخ میں مقابلہ وید اور قرآن کا بذریعہ کسی اخبار کے چاہتے ہیں۔ سو بہت خوب ہم پہلے ہی طیار ہیں ۔ مضمون ابطال تناسخ جس کو ہم جلسہ عام میں گوش گزار پنڈت صاحب موصوف کر چکے ہیں وہ تمام مضمون دلائل اور براہین قرآن مجید سے لکھا گیا ہے اور جابجا آیات فرقانی کا حوالہ ہے۔ پنڈت صاحب پر لازم ہے کہ مضمون اپنا جو دلائل بید سے بمقابلہ مضمون ہمارے کے مرتب کیا ہو، پر چہ سفیر ہند یا برادر ہند یا آریہ در پن میں طبع کراویں۔ پھر آپ ہی دانالوگ دیکھ لیں گے اور بہتر ہے کہ ثالث اور منصف اس مباحثہ تنقیح فضیلت وید اور قرآن میں دو شریف اور فاضل آدمی مسیحی مذہب اور برہمو سماج سے جو فریقین کے مذہب سے بے تعلق ہیں ، مقرر کئے جائیں سو میری دانست میں ایک جناب پادری رجب علی صاحب جو خوب محقق مدقق ہیں اور دوسرے جناب پنڈت شیو نرائن صاحب جو برہمو سماج میں اہلِ علم اور صاحب نظر دقیق ہیں، فیصلہ اس امر متنازعہ فیہ میں حکم بننے کے لیے بہت اولی اور انسب ہیں ۔ اس طور پر بحث کرنے میں حقیقت میں چار فائدے ہیں۔ اول یہ کہ بحث تناسخ کی بہ تحقیق تمام فیصلہ پا جائے گی ۔ دوم اس موازنہ اور مقابلہ سے امتحان ویدا اور قرآن کا بخوبی ہو جائے گا اور بعد مقابلہ کے جو فرق اہل انصاف کی نظر میں ظاہر ہوگا وہی فرق قول فیصل متصور ہوگا ۔ سوم یہ فائدہ کہ اس التزام سے ناواقف لوگوں کو عقائد مندرجہ وید اور قرآن سے بکلی اطلاع ہو جائے گی ۔ چہارم یہ فائدہ کہ یہ بحث تناسخ کی کسی ایک شخص کی رائے کا خیال نہیں کی جائے گی بلکہ محول بکتاب ہو کر اور معتاد طریق سے انجام پکڑ قابل تشکیک اور تربیف نہیں رہے گی۔ اور اس بحث میں یہ کچھ ضرور نہیں کہ صرف پنڈت کھڑک سنگھ صاحب تحریر جواب کی تن تنہا محنت اُٹھائیں بلکہ میں عام اعلان دیتا ہوں کہ منجملہ صاحبان مندرجہ عنوان مضمون ابطال تناسخ جو ذیل میں تحریر ہوگا کوئی صاحب ارباب فضل و کمال میں سے متصدی جواب ہوں اور اگر کوئی صاحب بھی باوجود