مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 332
مجموعه اشتہارات ۳۳۲ جلد اول اور اس خدمت کی بجا آوری میں کوئی فوق الطاقت امر مقصود نہیں ہے بلکہ جو شخص ایک پیسہ دینے کی توفیق رکھتا ہے۔ وہ پیسہ دیوے۔ اور جو شخص ایک روپیہ دے سکتا ہے وہ رو پیدا ادا کرے بلکہ توفیق پر کیا کچھ موقوف نہیں ہے۔ اپنے انشراح صدر کے لحاظ سے کم و بیش چندہ میں شریک ہو جائیں ۔ یعنی اگر کوئی اپنی خوشی کی خاطر اور پوری پوری انشراح سے زیادہ دینے پر قادر ہو وہ زیادہ دیوے۔ اور کچھ گرانی ہو تو ایک پیسہ یا ایک کوڑی کافی ہے۔ ہماری طرف سے تاکید یہ ہے کہ کوئی شخص ہماری جماعت میں سے بکلی ثواب سے محروم نہ رہے۔ اور اس نا جائز حیا اور شرم کی وجہ سے کہ بہت دینے کو دل نہیں چاہتا اور ایک پیسہ یا ایک پائی دینا اپنی مقدرت سے کمتر ہے امر صالح کو نہ چھوڑے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں کوئی ایسا شخص مصیبت زدہ نہیں کہ وہ ایک پیسہ دینے پر بھی قادر نہ ہو سکے اور اس چندہ کے لیے میں نے یہ انتظام کیا ہے کہ اس روپیہ کے تحویل دار منشی رستم علی ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے پنجاب لاہو لاہور مقرر کئے گئے ہیں۔ ہر ایک صاحب جو چندہ دینا چاہیں وہ براہ راست منشی صاحب موصوف کی خدمت میں بھیج دیں۔ اور میرے نزدیک مناسب ہے کہ جس شہر کی جماعت کو اس چندہ پر اطلاع ہو وہ الگ الگ اپنا چندہ ارسال نہ کریں۔ بلکہ تمام صاحبوں کا جو اس شہر میں رہتے ہوں ایک جگہ چندہ جمع کر کے وہ رقم اکٹھی منشی صاحب کی خدمت میں بھیجی جاوے اور اس میں تاخیر اور توقف جائز نہیں۔ بہت جلد اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اور اس جگہ قرین مصلحت سمجھ کر چند خاص دوستوں کے نام ذیل میں لکھے جاتے ہیں جنہوں نے آج ۷ ۱ / مارچ ۹۲ ء کو چندہ دیا ۔ فہرست چندہ دہندگان مرزا غلام احمد (صاحب) صدر ۔ مولوی محمد احسن صاحب ۱۸۔ حاجی عبدالمجید خاں صاحب لدھانوی ۱۸- محمد خاں صاحب کپورتھلہ -۱۸ ظفر احمد صاحب کپورتھلہ ۱۸۔ مولوی محمد حسین صاحب سلطان پور ۴ چودھری امیر الدین گڑھ شنکر ۱۴۔ رحمت اللہ صاحب لدھا نوی۔ ان لدھانوی انگشتری ۔ شیخ عبدالرحمن لدھانوی سے پائی ۔ شیخ برکت علی گورداسپور ۴ - نجم الدین صاحب ۱۴ ۔ رستم علی ڈپٹی انسپکٹر ۔ المش تهر خاکسار مرزاغلام احمد از جالندھر ۷ ار مارچ ۹۲ء ( مطبوعہ مطبع منشی فخر الدین لاہور ) تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحه ۹۶ تا ۹۸)