مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 294
مجموعه اشتہارات ۲۹۴ جلد اول ہے، حیات و وفات مسیح کے بارے میں مجھ سے بحث کریں اور اگر بحث سے عاجز ہیں تو حسب منشاء اشتہار مذکورہ بدین مضمون قسم کھا لیں کہ میرے نزدیک مسیح ابن مریم کا زندہ بجسده العنصری آسمان پر اُٹھایا جانا قرآن اور احادیث کے نصوص صریحہ قطعیہ بینہ سے ثابت ہے تو پھر آپ بعد اس قسم کے اگر ایک سال تک اس حلف دروغی کے اثر بد سے محفوظ رہے تو میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔ بلکہ اس مضمون کی تمام کتا بیں جلا دوں گا۔ لیکن شیخ الکل صاحب نے ان دونوں طریقوں میں سے کسی طریق کو منظور نہ کیا۔ ہر چند اس طرف سے بار بار یہی درخواست تھی کہ آپ بحث کیجئے یا حسب شرائط اشتہار قسم ہی کھائیے تا اہل حق کے لیے خدائے تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کرے۔ مگر شیخ الکل صاحب کی طرف سے گریز تھی اور آخر انہوں نے اس غرق ہونے والے آدمی کی طرح جو بچنے کی طمع خام سے گھاس پات کو ہاتھ مارتا ہے یہ حیلہ و بہانہ بوساطت اپنے بعض وکلاء کے صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی خدمت میں جو اسی کام کے لیے فریقین کے درمیان کھڑے تھے پیش کیا کہ یہ شخص عقائد اسلام سے منحرف ہے۔ معجزات کو نہیں مانتا۔ لیلۃ القدر کو تسلیم نہیں کرتا۔ اور معراج اور وجود ملائکہ سے منکر ہے اور پھر نبوت کا بھی مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے۔ پس جب تک یہ شخص اپنے عقائد کا ہم سے تصفیہ نہ کرے ہم وفات وحیات مسیح کے بارے میں ہرگز بحث نہ کریں گے۔ یہ تو کافر ہے۔ کیا کافروں سے بحث کریں۔ اس وقت میری طرف سے رو برو صاحب سٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ان کو یہ جواب ملا کہ سب با تیں سراسر افتراء ہیں۔ مجھے ان تمام عقائد میں سے کسی کا بھی انکار نہیں ۔ ہاں اصل عقائد کو مسلم رکھ کر بعض نکات و معارف ارباب کشف کے طور پر کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام میں لکھے ہیں جو اصل عقائد سے معارض نہیں ہیں۔ اگر فریق مخالف اپنی کو یہ فہمی اور بد نیتی سے انہیں متصوفانہ اسرار اور الہامی نکات و معارف کو خلاف عقائد اہلِ سنت خیال کرتے ہیں تو یہ خود ان کا قصور فہم ہے۔ میری طرف سے کوئی اختلاف نہیں۔ اور میں یہ وعدہ بھی کرتا ہوں کہ عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ایک رسالہ مستقلہ ان کی تفہیم و تلقین کی غرض سے اس بارے میں شائع کروں گا تا پبلک خود فیصلہ کر لے کہ کیا ان عقائد میں اہل سنت والجماعت کے عقائد سے میں نے علیحدگی اختیار کی ہے یا در حقیقت بہت سے