مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 275
مجموعه اشتہارات ۲۷۵ جلد اول اور ہر ایک بات جس کا اثر اور نشان قرآن اور حدیث میں پایا نہ جائے اور اس کے برخلاف ہو وہ کا میرے نزدیک الحاد اور بے ایمانی ہے مگر ایسے لوگ تھوڑے ہیں جو کلام الہی کی تہہ تک پہنچتے اور ربانی پیشگوئیوں کے باریک بھیدوں کو سمجھتے ہیں ۔ میں نے دین میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کی۔ بھائیو! میرا وہی دین ہے جو تمہارا دین ہے اور وہی رسول کریم میرا مقتدا ہے جو تمہارا مقتدا ہے۔ اور وہی قرآن شریف میرا ہادی ہے اور میرا پیارا اور میری دستاویز ہے جس کا ماننا تم پر بھی فرض ہے۔ ہاں یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ میں حضرت مسیح ابن مریم کو فوت شدہ اور داخل موتی یقین رکھتا ہوں اور جو آنے والے مسیح کے بارے میں پیشگوئی ہے وہ اپنے حق میں یقینی اور قطعی طور پر اعتقاد رکھتا ہوں، لیکن اے بھائیو! یہ اعتقاد میں اپنی طرف سے اور اپنے خیال سے نہیں رکھتا بلکہ خدا وند کریم جل شانہ نے اپنے الہام و کلام کے ذریعہ سے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ مسیح ابن مریم کے نام پر آنے والا تو ہی ہے۔ اور مجھ پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے وہ دلائل یقینیہ کھول دیئے ہیں جن سے یہ تمام یقین و قطع حضرت عیسی ابن مریم رسول اللہ کا فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔ اور مجھے اس قادر مطلق نے بار بار اپنے کلام خاص سے مشرف و مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ آخری زمانہ کی یہودیت دور کرنے کے لیے تجھے عیسیٰ بن مریم کے رنگ اور کمال میں بھیجا گیا ہے۔ سو میں استعارہ کے طور پر ابن مریم موعود ہوں ۔ جس کا اور یہودیت کے زمانہ اور تنصر کے غلبہ میں آنے کا وعدہ تھا جو غربت اور روحانی قوت اور روحانی اسلحہ کے ساتھ ظاہر ہوا۔ برخلاف اس غلط خیال ظاہری جنگ اور جدل کے جو مسیح ابن مریم کی نسبت مسلمانوں میں پھیل گیا تھا۔ سو میرا جنگ روحانی ہے اور میری بادشاہت اس عالم کی نہیں ۔ دنیا کی حرب و ضرب سے مجھے کچھ کام اور غرض واسطہ نہیں۔ میری زندگی ایسی فروتنی اور مسکینی کے ساتھ ہے جو مسیح ابن مریم کو ملی تھی۔ میں اس لیے آیا ہوں کہ تا ایمانی فروتنی اور مسکینی اور تقویٰ اور تہذیب اور طہارت کو دوبارہ مسلمانوں میں قائم کروں اور اخلاق فاضلہ کا طریق سکھلاؤں ۔ اگر مسلمانوں نے مجھے قبول نہ کیا تو مجھے کچھ رنج نہیں ۔ کیونکہ مجھ سے پہلے بنی اسرائیل نے بھی مسیح ابن مریم کو قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن جنہوں نے مجھے قبول نہیں کیا ان کے پاس کوئی عذر نہیں ۔ کیونکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میرے