مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 248
مجموعه اشتہارات ۲۴۸ جلد اول الفاظ کے مرتکب ہوئے جس سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب اپنے نفسانی جذبات کے ضبط کرنے پر ہرگز قادر نہیں ، ناچار ان کی یہ خطر ناک حالت دیکھ کر جلسہ برخاست کیا گیا۔ اور اس قدر لمبی بحث کے بعد جو مولوی صاحب نے اپنے خانہ زاد اصول موضوعہ کی نسبت سراسر لغو اور بے مصرف جاری کر رکھی تھی جو باراں دن تک ہوتی رہی اور اصل بحث سے کچھ بھی علاقہ نہیں رکھتی تھی اور فریقین کے بیانات دس جزو تک پہنچ گئے تھے اور لوگ سخت معترض تھے کہ اصل بحث کیوں شروع نہیں کی جاتی۔ مولوی صاحب کو اس وقت آخر مضمون میں یہ بھی سنا دیا گیا کہ اب ہم تمہیدی بحث کو ختم کرتے ہیں۔ آپ نے بھی بہت کچھ لکھ لیا۔ اور ہم نے بھی ۔ اب اس بے سود بحث کو بند کرنا چاہیے اور اصل بحث کو شروع کرنا چاہیے۔ مولوی صاحب اس طرح نہیں چاہتے تھے کہ اصل بحث کی طرف آئیں۔اس لئے انہوں نے ان شرطوں کو توڑ کر یہ چاہا کہ پھر کسی طرح سخت زبانی کر کے اپنی فضول اور بالائی باتوں کو جن کی طوالت کو اصل بحث سے کچھ بھی تعلق نہیں تھا۔ شروع رکھیں ۔ مگر ہم نے صاف جواب لکھ دیا تھا کہ بے فائدہ باتوں میں ہم اپنے اوقات کو ضایع کرنا نہیں چاہتے کیونکہ تمہیدی گفتگو بہت ہو چکی ہے۔ اور عنقریب رساله الحق سیالکوٹ میں فریقین کے بیانات چھپ جائیں گے۔ تب لوگ خود معلوم کر لیں گے کہ سچ پر کون ہے۔ اب یہ اشتہار صرف اس غرض سے دیا جاتا ہے کہ اگر مولوی صاحب کی نیت بخیر ہے تو اب بھی اصل مسئلہ میں بحث تحریری کر لیں ۔ میرے نزدیک مولوی صاحب کا یہ دعوی بھی بالکل فضول ہے کہ وہ اکابر محدثین کی طرح فن حدیث میں مہارت تمام رکھتے ہیں بلکہ بات بات میں ان کی نا سمجھی اور غباوت مترشح ہو رہی ہے۔ اگر وہ مجھے اجازت دیں تو میں ان کی حدیث دانی بھی لوگوں پر دیں تو کی دانی ظاہر کروں ۔ مولوی صاحب سے انصاف کی کیا توقع ہو سکتی ہے اور کیا امید کی جاسکتی ہے کہ بڑی بردباری اور غور سے کسی مضمون کو وہ سُن سکیں ۔ جس صورت میں آپ نے اپنی تہذیب اور معاملہ شناسی کا علی روسِ الأَشْهَاد یہ نمونہ دیا کہ عام لوگوں کی طرح اپنی بیویوں کو طلاق دینے پر آمادہ ہو گئے اور یہ صرف غالبا یہ لفظ کسی طرح ہوگا۔“ (مرتب)