مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 244

مجموعه اشتہارات ۲۴۴ جلد اول لکھیں۔ پہلے اس بات کا ظاہر کرنا ضروری ہے کہ سب سے اول بحث کرنے کا حق مولوی عبدالعزیز صاحب کو ہے کیونکہ وہ شہر کے مفتی اور اکثر لوگوں کے پیشوا اور مقتداء ہیں جو بار بار جامع مسجد میں بر سر منبر اعلان بھی دے چکے ہیں کہ ہم بحث کو تیار ہیں۔ کیوں ہم سے بحث نہیں کرتے۔ اور در حقیقت ان سے بحث کرنا نہایت ضروری بھی ہے کیونکہ خاص شہر لو یا نہ کی نظر انہیں پر ہے۔ سو یہ عاجز بمقابل ان کے بحث کے لیے بغرض اظہار حق تیار ہے۔ اب ان کے مریدوں اور معاونوں کو بھی مناسب بلکہ عین فرض ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو بحث کے لیے آمادہ کریں اور اگر کسی کمزوری کی وجہ سے وہ گریز کریں تو اس گریز سے ان کی اندرونی حالت اور علمی کمالات کا اندازہ اہل بصیرت خود ہی کر لیں گے۔ ہماری طرف سے تو مولوی صاحب موصوف کو بحالت ان کے عاجز رہ جانے کے یہ بھی اجازت ہے کہ اگر آپ بحث کرنے کا حوصلہ نہ دیکھیں تو اپنے برادر حقیقی مولوی محمد صاحب سے بحث کرنے کے لئے منت کریں۔ اور اگر وہ بھی بوجہ اپنی کسی حالت ناچاری کے جس کو وہ خوب سمجھتے ہوں گے جواب دے دیں تو پھر اپنے دوسرے بھائی مولوی عبداللہ صاحب کی خدمت میں التجا لے جائیں۔ اور اگر وہ بھی نہ مانیں تو پھر بحالت لا چاری مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس ہائی سکول کی خدمت میں دوڑیں۔ اور ان سے اس سختی کے وقت میں دستگیری چاہیں۔ اور اگر وہ بھی صاف جواب دیں اور وقت پر کام نہ آئیں تو پھر قریب قریب یقین کے ہے کہ دوم درجہ کے مفتی صاحب یعنی مولوی شاہدین صاحب ایسے اضطراب کی حالت میں ضرور کام آئیں گے اور ان کو اپنی منطق اور وسعت معلومات کا دعوی بھی بہت ہے۔ اور اگر وہ بھی گریز کر جائیں تو پھر استاد طائفہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خدمت میں مولوی شاہدین صاحب سے درخواست کراویں۔ اور اگر وہ بھی خاموش رہیں تو پھر موحدین کے گروہ میں سے اس شہر میں چیده و برگزیده حضرت مولوی محمد حسن صاحب رئیس اعظم لو دیانہ ہیں کہ جو در حقیقت علاوہ کمالات علمی بڑ۔ ت علمی بڑے نیک اخلاق کے آدمی ہیں اور نیک نیت اور بردبار اور حلیم الطبع شخص ہیں۔ ان کی طرف سب کو رجوع کرنا چاہیئے اور ان کو اختیار ہوگا کہ چاہیں تو بذات خود بحث کریں اور چاہیں تو اپنی طرف سے مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو بحث کے لیے وکیل مقرر کر دیں، لیکن اس وقت اگر وہ