مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 231

مجموعه اشتہارات ۲۳۱ جلد اول چنانچہ ارباب کشف میں سے سب سے قدم بڑھا ہوا حضرت ابن عربی قدس سرہ کا ہے۔ اور بعض مکاشفات سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ بھی ایسے ہیں جو احادیث صحیحہ سے منافی و مغائر ہیں چنانچہ ابن تیمیہ کا قول ہے کہ احادیث صحیحہ کی رو سے اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ ذبیح اسماعیل ہیں مگر سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اسحاق کو ذبیح ٹھہراتے ہیں۔ ایسا ہی قریب اجماع کے یہ عقیدہ بھی ہے جو کتب سابقہ توریت وغیرہ میں تحریف لفظی ہو گئی ہے۔ مگر حضرت محمد اسماعیل رئیس المحد ثین اس اجماع کے مخالف ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ان تمام جزئیات میں بطریق مباہلہ فیصلہ کرنا جائز ہوتا تو خدا تعالیٰ ہرگز اس اُمت کو مہلت نہ دیتا کہ اب تک وہ دنیا میں قائم رہ سکتی۔ ذرا سوچ کر دیکھنا چاہیے که چونکه در حقیقت حالت اسلام کی خیر القرون سے ہی ایسی واقعہ ہو گئی ہے کہ حنفی مذہب شافعی مذہب سے صدہا جزئیات میں اختلاف رکھتا ہے ایسا ہی شافعی مالکی سے اور مالکی حنبلی سے سینکڑوں جزئی مسائل میں مختلف ہے اور محد ثین کو بھی کسی ایک مذہب سے بکلی مطابقت نہیں ہے اور پھر وہ بھی باہم جزئیات کثیرہ میں اختلاف رکھتے ہیں۔ ادھر اہلِ کشف کے اختلافات کا بھی ایک دفتر ہے یہاں تک کہ بعض نے نبوت تامہ کے سلسلہ کو منقطع نہیں سمجھا۔ جاودانی عذاب کے قائل نہیں ہوئے۔ اور ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ایسا مذہب نہیں کہ جو جزئیات کے اختلاف میں غلطی اور خطاء کے احتمال سے خالی ہو۔ اب اگر فرض کریں کہ ان سب میں اختلافات جزئیہ کی وجہ سے مباہلہ واقع ہو اور خداوند تعالیٰ مخطی پر عذاب نازل کرے تو بلا شبہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمام متفرق فرقے اسلام کے صفحہ زمین سے یک لخت نابود ہوں۔ پس ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز منشاء نہیں کہ خدا اہل اسلام ان تمام اختلافات جزئیہ کی وجہ سے ہلاک کئے جائیں ۔ سوایسے مباہلات سے اسلام کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ اور اگر یہ عند اللہ جائز ہوتا تو اسلام کا کب سے خاتمہ ہو جاتا۔ اس کے جواب میں میاں عبد الحق صاحب اپنے دوسرے اشتہار میں اس عاجز کو یہ لکھتے ہیں کہ اگر مباہلہ مسلمانوں سے بوجہ اختلافات جزئیہ جائز نہیں تو پھر تم نے مولوی محمد اسماعیل سے رسالہ فتح اسلام میں کیوں مباہلہ کی درخواست کی۔ سو انہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ درخواست کسی جزئی اختلاف کی