مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 225
مجموعه اشتہارات ۲۲۵ جلد اول جواب فرماویں ورنہ نہیں۔ فقط آج ۱۶ / اپریل ۱۸۹۱ء کو آپ کی خدمت میں خط بھیجا گیا ہے۔ اور ۲۰ اپریل ۱۸۹۱ء تک کے جواب کی انتظاری رہے گی۔ اگر ۲۰ اپریل ۱۸۹۱ ء تک آپ کا خط نہ پہنچا تو یہ خد کا خط نہ پہنچا تو یہ خط آپ کے رسالہ کے جواب آپ میں کسی اخبار وغیرہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ فقط ۔ آج بھوپال سے آپ کا ایک کارڈ مرقومہ ۹ را پریل ۱۸۹۱ ء مرسله اخویم مولوی محمد احسن صاحب مہتمم مصارف ریاست پڑھ کر آپ کے اخلاق کریمہ اور مہذبانہ تحریر کا نمونہ معلوم ہو گیا ۔ آپ اپنے کارڈ میں فرماتے ہیں کہ میں نے میرزا غلام احمد کے اس دعوی جدید کی اپنے ریویو میں تصدیق نہیں دی بلکہ اس کی تکذیب خود براہین میں موجود ہے۔ آپ بلا روایت میرزا پر ایمان لے آئے ۔ تَسْمَعُ بِالْمُعَيْدِى خَيْرٌ مِّنْ أَنْ تَرَاهُ - اشاعۃ السنہ میں اب ثابت ہے کہ یہ شخص ملہم نہیں ہے۔ فقط حضرت مولوی صاحب من آنم کہ من دانم ۔ آپ جہاں تک کہ ممکن ہے ایسے الفاظ استعمال کیجئے۔ میں کیا ہوں اور میری شان کیا۔ بے شک آپ جو چاہیں کہیں اور اس وعدہ تہذیب کی پرواہ نہ رکھیں جس کو آپ چھاپ چکے ہیں ۔ رَبِّي سَمِيعٌ ويَرَى۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى (خط مرزا صاحب بنام مولوی عبدالجبار صاحب ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی اخوی ام مولوی عبدالجبار صاحب! السلام علیکم ! ایک اشتہار جو عبد الحق صاحب کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔ جس میں مباہلہ کی درخواست کی ہے کل کی ڈاک میں مجھ کو ملا۔ چونکہ میں نہیں جانتا کہ عبد الحق کون ہے ۔ آیا کسی گروہ کا مقتدی یا مقتدا ہے۔ اس وجہ سے آپ ہی کی طرف خط ہذا لکھتا ہوں اس خیال سے کہ میری رائے میں وہ آپ ہی کی جماعت میں سے ہے اور اشتہار بھی دراصل آپ ہی کی تحریک سے لکھا گیا ہوگا۔ پس واضح ہو کہ مباہلہ پر مجھے کسی طرح سے اعتراض نہیں۔ جس حالت میں میں نے اس مدعا کی غرض سے قریب بارہ ہزار کے خطوط و اشتہارات مختلف ملکوں میں بڑے بڑے مخالفوں کے نام روانہ کئے ہیں تو پھر آپ سے مباہلہ کرنے میں کونسی تأمل کی جگہ ۔ ما تامل کی جگہ ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارہ میں پہلے لے اس خط کا ذکر حضرت مسیح موعود کے اس اشتہار میں ہے جو آگے نمبر ۵۹ پر درج ہے۔ ملاحظہ ہو صفحہ ۲۳۰ ( مرتب )