مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 224

مجموعه اشتہارات ۲۲۴ جلد اول سو ہماری بکلی تسلی ہوگئی ۔ آپ بلا جرح تشریف لے جائے ۔ سو انہوں نے ہی بلایا اور انہوں نے ہی رخصت کیا۔ آپکا تو درمیان میں قدم ہی نہ تھا۔ پھر آپ کا یہ جوش : کا یہ جوش جو تار کے فقرات سے ظاہر ہوتا ہے کس قدر بے محل ہے۔ آپ خود انصاف فرماویں۔ جب کہ ان سب لوگوں نے کہہ دیا کہ اب ہم مولوی صاحب محمد حسین کو بُلا نا نہیں چاہتے ، ہماری تسلی ہوگئی اور وہی تو ہیں جنہوں نے مولوی صاحب کو لدھیانہ سے بلایا تھا تو پھر مولوی صاحب آپ سے کیوں اجازت مانگتے ۔ کیا آپ نہیں سمجھ سکتے اور اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ بحث ہونی چاہیے جیسا کہ آپ اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں تو یہ عاجز بسر و چشم حاضر ہے۔ مگر تقریری بحثوں میں صد با طرح کا فتنہ ہوتا ہے۔ صرف تحریری بحث چاہیئے اور وہ یوں ہو کہ سادہ طور پر چار ورق کاغذ پر آپ جو چاہیں لکھ کر پیش کریں اور لوگوں کو با واز بلند سُنا دیں اور ایک نقل اس کی اپنے دستخط سے مجھے دیدیں۔ پھر بعد اس کے میں بھی چار ورق پر اس کا جواب لکھوں اور لوگوں کو سُناؤں۔ ان دونوں پر چوں پر بحث ختم ہو جاوے اور فریقین میں سے کوئی ایک کلمہ تک تقریری طور پر اس بحث کے بارہ میں بات نہ کرے۔ جو کچھ ہو تحریری ہو اور پرچے صرف دو ہوں ۔ اول آپ کی طرف سے ایک چو ورقہ جس میں آپ میرے مشہور کردہ دعوے کا قرآن کریم اور حدیث شریف کی رُو سے رڈلکھیں اور پھر دوسرا پر اور پھر دوسرا پرچہ چو ورقہ اسی تقطیع کا میری طرف سے ہو جس میں میں اللہ جل شانہ کے فضل و توفیق سے ڈالر دیکھوں اور انہی دونوں پر چوں پر بحث ختم ہو جاوے۔ اگر آپ کو ایسا منظور ہو تو میں لاہور آ سکتا ہوں۔ اور انشاء اللہ تعالی امن قائم رکھنے کے لیے انتظام کرادوں گا۔ یہی آپ کے رسالہ کا بھی جواب ہے۔ اب اگر آپ نہ مانیں تو پھر آپ کی طرف سے گریز متصور ہوگی ۔ والسلام میرزاغلام احمد از لدهانه اقبال گنج ۱۶ اپریل ۱۸۹۱ء مکرر یہ کہ جس قدر ورق لکھنے کے لیے آپ پسند کر لیں اسی قدر اوراق پر لکھنے کی مجھے اجازت دی جاوے۔ لیکن یہ پہلے سے جلسہ میں تصفیہ پا جانا چاہیے کہ آپ اس قدر اوراق لکھنے کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور آئمکرم اس بات کو خوب یا درکھیں کہ پرچہ صرف دو ہوں گے۔ اول آپ کی طرف سے میرے ان دونو بیانات کارڈ ہوگا جو میں نے لکھا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں اور نیز یہ کہ حضرت ابن مریم در حقیقت وفات پاگئے ہیں۔ پھر اس رڈ کے رڈالرد کے لیے میری طرف سے تحریر ہوگی ۔ غرض پہلے آپ کا یہ حق ہوگا کہ جو کچھ ان ڈ ، آپ کا یہ حق ہوگا کہ جو کچھ ان دعوے کے ابطال کے لیے آپ کے پاس ذخیرہ نصوص قرآنیہ و حدیث موجود ہے وہ آپ پیش کریں۔ پھر جس طرح خدا تعالیٰ چاہے گا یہ عاجز اس کا جواب دے گا اور بغیر اس طریق کے جو مبنی با انصاف ہے اور نیز امن رہنے کے لیے احسن انتظام ہے اور کوئی طریق اس عاجز کو منظور نہیں۔ اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے یہ اخیر تحریر تصور فرماویں اور خود بھی خط لکھنے کی تکلیف روا نہ رکھیں اور بحالت انکار ہرگز ہرگز کوئی تحریر یا خط میری طرف نہ لکھیں اور اگر پوری پوری و کامل طور پر بلاکم و بیش میری رائے ہی منظور ہو تو اسی حالت میں