مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 222

مجموعه اشتہارات ۲۲۲ جلد اول کی نظروں میں عجیب اور تحقیر سے دیکھا جاتا ہے۔ اور میں کھول کر کہتا ہوں کہ میرا دعوئی صرف مبنی بر الہام نہیں بلکہ سارا قرآن شریف اس کا مصدق ہے۔ تمام احادیث صحیحہ اس کی صحت کی شاہد ہیں۔ عقل خداداد بھی اس کی مؤید ہے۔ اگر مولوی صاحبوں کے پاس مخالفانہ طور پر شرعی دلائل موجود ہیں تو وہ جلسہ عام کر کے بطریق مذکورہ بالا مجھ سے فیصلہ کریں۔ بے شک حق کو غلبہ ہوگا۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں ۔ مولوی صاحبان سرا سر اپنے علم کی پردہ دری کراتے ہیں۔ جبکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ دعوی قرآن اور حدیث کے برخلاف ہے۔ اے حضرات اللہ جَلَّ شَانۂ آپ لوگوں کے دلوں کو نور ہدایت سے منور کرے۔ یہ دعوی ہرگز قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف نہیں بلکہ آپ لوگوں کو سمجھ کا پھیر لگا ہوا ہے۔ اگر آپ لوگ عام جلسہ کے لیے مقام و تاریخ مقرر کر کے ایک عام جلسہ میں مجھ سے بحث تحریری نہیں کریں گے تو آپ خدا تعالیٰ کے نزدیک اور نیز راستبازوں کی نظر میں بھی مخالف حق ٹھہریں گے اور مناسب ہے کہ جب تک میرے ساتھ بالمواجہ تحریری طور پر بحث نہ کر لیں اس وقت تک عوام الناس کو بہکانے اور مخالفانہ رائے ظاہر کرنے سے اپنا منہ بند رکھیں اور یہی آیت کریمہ لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم سے ڈریں ورنہ یہ حرکت حیا اور ایمان اور خدا ترسی اور منصفانہ طریق سے برخلاف سمجھی جائے گی اور واضح رہے کہ اس اشتہار کے عام طور پر وہ تمام مولوی صاحبان مخاطب ہیں جو مخالفانہ ظاہر کر رہے ہیں اور خاص طور پر ان سے ر پر ان سب کے سرگروہ یعنی مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ۔ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی ۔ مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی مولوی عبد الرحمن صاحب لکھو کے والے۔ مولوی شیخ عبید اللہ صاحب تبتی ۔ مولوی عبدالعزیز صاحب لدھیانوی معہ برادران اور رائے کرر۔ مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری ۔ المشـ ۲۶ مارچ ۱۸۹۱ء تهر بنی اسراءیل : ۳۷ میرزاغلام احمد قادیانی ( مطبع دبد به اقبال ربّب لدھیانه ) مولوی محمد حسین بٹالوی کے نام ۱۶ اپریل ۱۸۹۱ء کو جو مندرجہ ذیل خط حضرت اقدس علیہ السلام نے مباحثہ