مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 221
مجموعه اشتہارات ۲۲۱ جلد اول قبول کرنے میں کوئی عذر شرعی ہو یا وہ یہ خیال کرتے ہوں کہ اس عاجز کے یہ دعاوی قال اللہ اور قال الرسول کے برخلاف ہیں تو وہ ایک عام مجلس مقرر کر کے تحریری طور پر اس عاجز سے مقاصد مذکورہ بالا میں مباحثہ کر لیں تا کہ جلسہ عام میں حق ظاہر ہو جائے اور کوئی فتنہ بھی پیدا نہ ہو کیونکہ مجرد زبانی بیانات میں انواع اقسام کی خرابیوں کا احتمال ہے۔ سومناسب ہے کہ ان سب میں سے وہ مولوی صاحب جو کمالات علمی میں اول درجہ کے خیال کئے جائیں وہی فریق ثانی کی طرف سے اس مباحثہ کے لیے مختار مقرر ہوں اور فریق ثانی کے لوگ اپنے اپنے معلومات سے ان کو مدد دیویں اور وہ (وکیل صاحب ) بذریعہ تحریران سب دلائل کو اس عاجز کے سامنے پیش کریں۔ مگر مناسب ہے کہ اختصار اور حفظ اوقات کی غرض سے اپنے گل دلائل اول پر چہ میں ہی پیش کر دیں اور اس عاجز کی طرف سے بھی صرف ایک پرچہ اس کے جواب میں ہوگا۔ وہی دونوں پر چے سوالات و جوابات کے حاضرین کو سنائے جائیں اور اخباروں میں چھپوا دیئے جائیں۔ اس سے حق اور باطل خود روشن ہو جائے گا اور تحریرات ہر دو فریق سے ہر یک حاضر اور غائب کو خوب سوچ کے ساتھ حق کے سمجھنے اور رائے لگانے کا موقع مل جاویگا۔ اگر چہ کتاب ازالہ اوہام چھپ رہی ہے جو پچھپیں جزو کے قریب ہو گی اور یہ تمام مباحث معہ دیگر معارف و حقایق کے اس میں کامل طور پر درج ہیں مگر یہ مولوی صاحبان اس کو ہر گز نہیں دیکھیں گے تا ایسا نہ ہو کہ آنکھیں گھل جائیں اور حق کو قبول کرنا پڑے۔ بلکہ میں نے سُنا ہے کہ ان حضرات میں سے اکثر مولوی صاحبان یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی مسلمان ان کتابوں کو نہ دیکھے۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ يَا لیکن یہ اشتہار بہر حال انہیں دیکھنا پڑے گا۔ اور عوام الناس اگر چہ بڑی بڑی کتابوں کو نہیں پڑھتے مگر اس مختصر اشتہار کے مضمون سے بے خبر نہیں رہ سکتے ۔ لہذا میں نے اتمام حجت کی نیت سے اس کو لکھا ہے اور میں بآواز بلند کہتا ہوں کہ میرے پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور القاء سے حق کو کھول دیا ہے اور وہ حق جو میرے پر کھولا گیا ہے وہ یہ ہے کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے اور اس کی روح اپنے خالہ زاد بھائی یحییٰ کی روح کے ساتھ دوسرے آسمان پر ہے۔ اس زمانہ کے لیے جوڑوحانی طور پر مسیح آنے والا تھا جس کے خبر احادیث صحیحہ میں موجود ہے وہ میں ہوں ۔ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جولوگوں ا الصف: 9