مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 175
مجموعه اشتہارات ۱۷۵ جلد اول کے دادا صاحب بھی شامل ہیں، عملاً اس فعل کے جواز بلکہ استحباب پر مہر لگا دی ہے۔ اے نا خدا ترس عیسائیو! اگر مہم کے لیے ایک ہی جو رو ہونا ضروری ہے تو پھر کیا تم داؤد جیسے راستباز نبی کو نبی اللہ نہیں مانو گے یا سلیمان جیسے مقبول الہی کو لہم ہونے سے خارج کر دو گے؟ کیا بقول تمہارے یہ دائمی فعل ان انبیاء کا جن کے دلوں پر گویا ہر دم الہام الہی کی تار لگی ہوئی تھی اور ہر آن خوشنودی یا نا خوشنودی کی تفصیل کے بارے میں احکام وارد ہو رہے تھے ایک دائمی گناہ نہیں ہے جس سے وہ اخیر عمر تک باز نہ آئے اور خدا اور اس کے حکموں کی کچھ پرواہ نہ کی ۔ وہ غیرت مند اور نہایت درجہ کا غیور خدا جس نے نافرمانی کی وجہ سے ثمود اور عاد کو ہلاک کیا۔ لوط کی قوم پر پتھر برسائے ۔ فرعون کو معہ اس کی تمام شریر جماعت کے ہولناک طوفان میں غرق کر دیا۔ کیا اس کی شان اور غیرت کے لائق ہے کہ اس نے ابراہیم اور یعقوب اور موسیٰ اور داؤد اور سلیمان اور دوسرے کئی انبیاء کو بہت سی بیویوں کے کرنے کی وجہ سے تمام عمر نا فرمان پا کر اور پکے سرکش دیکھ کر پھر ان پر عذاب نازل نہ کیا بلکہ انہیں سے زیادہ تر دوستی اور محبت کی؟ کیا آپ کے خدا کو الہام اُتارنے کے لیے کوئی آدمی نہیں ملتا تھا یا بہت سی جو رواں کرنے لتا تھا یا والے ہی اُس کو پسند آگئے ؟ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ نبیوں اور تمام برگزیدوں نے بہت سی جو رواں کر کے اور پھر روحانی طاقتوں اور قبولیتوں میں سب سے سبقت لے جا کر تمام دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوست الہی بننے کے لیے یہ راہ نہیں کہ انسان دنیا میں مخنثوں اور نامردوں کی طرح رہے۔ بلکہ ایمان میں قوی الطاقت وہ ہے کہ جو بیویوں اور بچوں کا سب سے بڑھ کر بوجھ اُٹھا کر پھر باوجود ان سب تعلقات کے بے تعلق ہو خدائے تعالیٰ کا بندہ سے محب اور محبوب ہونے کا جوڑ ہونا ایک تیسری چیز کے وجود کو چاہتا ہے۔ وہ کیا ہے؟ ایمانی روح جو مومن میں پیدا ہو کر نئے حواس اس کو بخشتی ہے۔ اُسی روح کے ذریعہ سے خدائے تعالیٰ کا کلام مومن سنتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے سچی اور دائمی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے نئی زندگی کی خارق عادت طاقتیں اس میں پیدا ہوتی ہیں ۔اب ہم پر لیے انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا کہ حضرت مسیح بھی جورو کرنے کے فکر میں تھے مگر تھوڑی سی عمر میں اُٹھائے گئے ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے ۔ منہ