مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 174

مجموعه اشتہارات ۱۷۴ جلد اول تقویٰ کے لیے یہ فعل کیا زبردست محمد و معین ہے۔ خاوندوں کی حاجت براری کے بارے میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے۔ جیسے ایام حمل اور حیض نفاس میں ، یہ طریق با برکت تدارک اس نقصان کا کرتا ہے۔ اور جس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کی رُو سے کر سکتا ہے وہ اُسے بخشا ہے۔ ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لیے مجبور ہوتا ہے۔ مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بد شکل ہو جائے تو عورت مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا مدار مرد اور عورت کی کارروائی کا ہے۔ بیکار اور معطل ہو جاتی ہے، لیکن اگر مرد بد شکل ہو۔ تو عورت کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ کارروائی کی گل مرد کو دی گئی ہے اور عورت کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور یا عجز رکھتا ہے تو قرآنی حکم کے رُو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں کی ذمہ دار اور کار برار نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لیے قائم رہتا ہے۔ جو لوگ قوی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں ان کے لیے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ بعض اسلام کے مخالف اپنے نفس امارہ کی پیروی سے سب کچھ کرتے ہیں، مگر اس پاک طریق سے سخت نفرت رکھتے ہیں کیونکہ بوجہ اندرونی بے قیدی کے جوان میں پھیل رہی ہے ان کو اس پاک طریق کی کچھ پروا اور حاجت نہیں ۔ اس مقام میں عیسائیوں پر سب سے بڑھ کر افسوس ہے کیونکہ وہ اپنے مسلم الثبوت انبیاء کے حالات سے آنکھ بند کر کے مسلمانوں پر ناحق دانت پیسے جاتے ہیں ۔ شرم کی بات ہے کہ جن لوگوں کا اقرار ہے کہ حضرت مسیح کے جسم اور وجود کا خمیر اور اصل جڑ اپنی ماں کی جہت سے وہی کثرت ازدواج ہے۔ جس کی حضرت داؤد (مسیح کے باپ ) نے نہ دو نہ تین بلکہ سو بیوی تک نوبت پہنچائی تھی ۔ وہ بھی ایک سے زیادہ بیوی کرنا زنا کرنے کی مانند سمجھتے ہیں۔ اور اس پر حبث کلمہ کا نتیجہ جو حضرت مریم صدیقہ کی طرف عائد ہوتا ہے اس سے ذرا پر ہیز نہیں کرتے۔ اور باوجود اس تمام بے ادبی کے دعوئی محبت مسیح رکھتے ہیں ۔ جاننا چاہیے کہ بیبل کے رُو سے تعد دنکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح