مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 156

مجموعه اشتہارات ۱۵۶ جلد اول تک ہل چل مچادی ہے۔ کیا ایسی استقامت کی بنیاد صرف لاف و گزاف کا خس و خاشاک ہے؟ کیا تمام جہان کے مقابل پر ایسا دعویٰ وہ مکار بھی کر سکتا ہے کہ جو اپنے دل میں جانتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ اور خدا میرے ساتھ نہیں؟ افسوس! آریوں کی عقل کو تعصب نے لے لیا۔ بغض اور کینہ کے غبار سے ان کی آنکھیں جاتی رہیں۔ اب اس روشنی کے زمانہ میں وید کو خدا کا کلام بنانا چاہتے ہیں نہیں جانتے کہ اندر اور اگنی کا مدت سے زمانہ گزر گیا۔ کوئی کتاب بغیر خدائی نشانوں کے خدا تعالیٰ کا کلام کب بن سکتی ہے اور اگر ایسا ہی ہو تو ہر ایک شخص اٹھ کر کتاب بنادے اور اس کا نام خدا تعالیٰ کا کلام رکھ لیوے۔ اللـــه جَلَّ شانه کا وہی کلام ہے جو الہی طاقتیں اور برکتیں اور خاصیتیں اپنے اندر رکھتا ہے۔ سو آؤ ! جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے وہ قرآن شریف ہے جس کی صدہا روحانی خاصیتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچے پیرو اس کے خالی طور پر الہام پاتے ہیں اور تادم مرگ رحمت اور برکت ان کے شامل ہوتی ہے۔سو یہ خاکسار اسی آفتاب حقیقت سے فیض یافتہ اور اُسی دریائے معرفت سے قطرہ بردار ہے اب یہ ہندو روشن چشم جو اس الہی کا روبار کا نام فریب رکھ رہا ہے اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ ہر چندار چند اب ہمیں فرصت نہیں کہ بالمواجہ آزمائش کے لئے ہر روز نئے نئے اشتہار جاری کریں۔ اور خود رسالہ سراج منیر نے ان متفرق کارروائیوں سے ہمیں مستغنی کر دیا ہے لیکن چونکہ اس دز دمنش کی روبہ بازیوں کا تدارک از بس ضروری ہے جو مدت سے برقع میں اپنا مونہہ چھپا کر کبھی اپنے اشتہاروں میں ہمیں گالیاں دیتا ہے کبھی ہم پر تہمتیں لگاتا ہے اور فریبوں کی طرف نسبت دیتا ہے اور کبھی ہمیں مفلس بے زر قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ کس کے پاس مقابلہ کے لئے جاویں وہ تو کچھ بھی جائداد نہیں رکھتا ہمیں کیا دے گا کبھی ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور اپنے اشتہاروں میں ۲۷ جولائی ۱۸۸۶ء سے تین برس تک ہماری زندگی کا خاتمہ بتلاتا ہے۔ ایسا ہی ایک بیرنگ خط میں بھی جو کسی انجان کے ہاتھ سے لکھایا گیا ہے جان سے مار دینے کے لئے ہمیں ڈراتا ہے لہذا ہم بعد اس دعا کے کہ یا الہی تو اس کا اور ہمارا فیصلہ کر اس کے نام یہ اعلان جاری کرتے ہیں اور خاص اُسی کو اس آزمائش کے لئے بلاتے ہیں کہ اب برقع سے مونہہ