مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 137
مجموعه اشتہارات ۱۳۷ (۳۷) جلد اول اشتہار مفيد الاخیار جا گو جا گو آر یو نیند نہ کرو پیار چونکہ آج کل اکثر ہندوؤں اور آریوں کی یہ عادت ہو رہی ہے کہ وہ کچھ کچھ کتابیں عیسائیوں کی جو اسلام کی نکتہ چینی میں لکھی گئی ہیں دیکھ کر اور ان پر پورا پورا اطمینان کر کے اپنے دلوں میں خیال کر لیتے ہیں کہ حقیقت میں یہ اعتراضات درست اور واقعی ہیں۔ اس لئے قرین مصلحت سمجھ کر اس عام اشتہار کے ذریعہ سے اطلاع دی جاتی ہے کہ اول تو عیسائیوں کی کتابوں پر اعتماد کر لینا اور براہ راست کسی فاضل اہل اسلام سے اپنی عقدہ کشائی نہ کرانا اور اپنے اوہام فاسدہ کا محققین اسلام سے علاج طلب نہ کرنا اور خائنین عناد پیشہ کو امین سمجھ بیٹھنا سراسر بے راہی ہے جس سے طالب حق کو پر ہیز کرنا چاہیے ۔ دانشمند لوگ خوب جانتے ہیں کہ یہ جو پادری صاحبان پنجاب اور ہندوستان میں آ کر اپنے مذہب کی تائید میں دن رات ہزار ہا منصوبے باندھ رہے ہیں یہ ان کے ایمانی جوش کا تقاضا نہیں بلکہ ے نہ انواع اقسام کے اغراض نفسانی ان کو ایسے کاموں پر آمادہ کرتے ہیں اگر وہ انتظام مذہبی جس کے باعث سے یہ لوگ ہزار ہا روپیہ نخواہیں پاتے ہیں درمیان سے اٹھایا جاوے تو پھر دیکھنا چاہیے کہ ان کا جوش وخروش کہاں ہے۔ ماسوا اس کے ان لوگوں کی ذاتی علمیت اور دماغی روشنی بھی بہت کم ہوتی ہے اور یورپ کے ملکوں میں جو واقعی دانا اور فلاسفر اور دقیق النظر ہیں وہ پادری کہلانے سے کراہت اور عار رکھتے ہیں اور ان کو ان کے بیہودہ خیالات پر اعتقاد بھی نہیں بلکہ یورپ کے عالی دماغ حکماء کی نگاہوں