مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 130
مجموعه اشتہارات ۱۳۰ جلد اول زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائیبل میں لکھا گیا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر با وصف ان سب عقلی و نقلی جرح وقدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لیے زندہ رہتا تھا اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو جاتا ، جس کے دنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھا نہ خود اس کو آرام ملتا تھا، اور نہ اُس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی ۔ سوا اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو در حقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا۔ اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احَدٌ مِنَ النَّاسِ ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی ۔ مگر اس جگہ بِفَضْلِهِ تَعَالَى وَاِحْسَانِهِ وَبِبَرَكْتِ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیاء موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے مگر اُن روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے۔ جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اے لوگو! میں کیا چیز ہوں اور کیا حقیقت ۔ جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے۔ وہ در حقیقت میرے پاک متبوع پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کو یا د رکھنا چاہیے کہ وہ آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا بلکہ وہی خاک اُس کے سر پر اس کی آنکھوں پر اُس کے منہ پر گر کر اُس کو ذلیل اور رسوا کرے گی اور ہمارے نبی کریم کی شان و شوکت اس کی عداوت اور اس کے بخل سے کم نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ ظاہر کرے گا ۔ کیا تم فجر کے قریب آفتاب کو نکلنے سے روک سکتے ہو؟ ایسے ہی تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آفتاب صداقت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ خدا تعالیٰ