مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 126
مجموعه اشتہارات ۱۲۶ جلد اول خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے۔ اُن کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور اُن کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا، لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا۔ اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گالے تیری ذریت منقطع نہیں ہو گی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی ۔ خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کناروں تک پہنچادے گا۔ میں تجھے اُٹھاؤں گا اور اپنی طرف بُلاؤں گا پر تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اُٹھے گا اور ایسا ہو گا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مریں گے۔ لیکن خدا تجھے بگلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ میں تیرے خالص اور دلی محبتوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا۔ اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے، خدا انہیں نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا اپنا جر پائیں گے۔ تو مجھ سےایسا ہے جسے انبیاء بنی اسرائیل یعنی علی طور پر لے نوٹ ۔ یہ ایک پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو دہم جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں شائع ہو چکی ۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی ۔ سو اس جگہ اُجڑے ہوئے گھر سے وہ اُجڑا ہوا گھر مراد ہے۔ منہ حاشیہ۔ اُمتی کا کمال یہی ہے کہ اپنے نبی متبوع سے بلکہ تمام انبیائے متبوعین علیہم السلام سے مشابہت پیدا کرے۔ یہی کامل اتباع کی حقیقت اور علت غائی ہے جس کے لیے سورۃ فاتحہ میں دعا کرنے کے لیے ہم لوگ مامور ہیں ۔ بلکہ یہی انسان کی فطرت میں تقاضا پایا جاتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مسلمان لوگ اپنی اولاد کے نام بطور تفاؤل عیسی ، داؤد، موسیٰ ، یعقوب محمد وغیرہ انبیاء علیہ السلام کے نام پر رکھتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہی اخلاق و برکات بطور ظلی ان میں بھی پیدا ہو جا ئیں ۔ فَتَدَبَّرُ ۔ منه