مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 122

مجموعه اشتہارات ۱۲۲ جلد اول غیبیہ پر مطلع کر کے بار عظیم سے سبکدوش فرمایا۔ حقیقت میں اسی کا فضل ہے اور اسی کا کام جس نے چار طرفہ کشاکش مخالفوں و موافقوں سے اس ناچیز کو مخلصی بخشی۔ یع قصه کوتاه کرد ورنه در دسر بسیار بود اب یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور انشاء اللہ القدیر صرف چند ہفتوں کا کام ہے۔ اور اس رسالہ میں تین قسم کی پیش گوئیاں ہیں۔ اول وہ پیشگوئیاں جو خود اس احقر کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں ۔ یعنی جو کچھ راحت یا رنج یا حیات یا وفات اس ناچیز سے متعلق ہے یا جو کچھ تفضلات یا انعامات الہیہ کا وعدہ اس ناچیز کو دیا گیا ہے وہ ان پیشگوئیوں میں مندرج ہے۔ دوسری وہ پیشگوئیاں جو بعض احباب یا عام پیش طور پر کسی ایک شخص یا بنی نوع سے متعلق ہیں۔ اور ان میں سے ابھی کچھ کام باقی ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو وہ بقیہ بھی طے ہو جاوے گا۔ تیسری وہ پیشگوئیاں جو مذاہب غیر کے پیشواؤں یا واعظوں یا ممبروں سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور اس قسم میں ہم نے صرف بطور نمونہ چند آدمی آریہ صاحبوں اور چند قادیان کے ہندوؤں کو لیا ہے جن کی نسبت مختلف قسم کی پیشگوئیاں ہیں ۔ کیونکہ انہیں میں آج کل نئی نئی تیزی اور انکارا شد پایا جاتا ہے اور ہمیں اس تقریب پر یہ بھی خیال ہے کہ خداوند کریم ہماری محسن گورنمنٹ انگلشیہ کو جس کے احسانات سے ہم کو بتمام تر فراغت و آزادی گوشه خلوت میسر و کنج امن و آسائش حاصل ہے ظالموں کے ہاتھ سے اپنی حفظ و حمایت رکھے اور روس منحوس کو اپنی سرگردانیوں میں محبوس و معکوس و مبتلا کر کے ہماری گورنمنٹ کو فتح و نصرت نصیب کرے۔ تاہم وہ بشارتیں بھی (اگر مل جائیں) اس عمدہ موقع پر درج رسالہ کر دیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ اور چونکہ پیشگوئیاں کوئی اختیاری بات نہیں ہے۔ تا ہمیشہ اور ہر حال میں خوشخبری پر دلالت کریں۔ اس لیے ہم بانکسار تمام اپنے موافقین و مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی پیشگوئی کو اپنی نسبت نا گوار طبع ( جیسے خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت ) پاویں تو اس بندہ ناچیز کو معذور تصور فرماویں۔ بالخصوص وہ صاحب جو باعث لے یہ رسالہ بعض مصالح کی وجہ سے اب تک ۲۵ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھپ نہیں سکا مگر متفرق طور پر اس کی بعض پیشگوئیاں شائع ہوتی رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی شائع ہوتی رہیں گی ۔ منہ