مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 117

مجموعه اشتہارات ۱۱۷ جلد اول پیشگوئی ان پوشیدہ بھیدوں کی خبر آپ کو دیتا ہے یا ایسے عجیب طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے اپنے برگزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا آیا ہے۔ سو آپ سوچ لیں کہ ہماری اس درخواست میں کچھ ہٹ دھری اور ضد نہیں ہے۔ اور اس جگہ ایک اور بات واجب العرض ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ شخص مشاہدہ کنندہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد اسلام کو قبول کرے۔ سو اس قدر تو ہم مانتے ہیں کہ سچ کے کھلنے کے بعد جھوٹ پر قائم رہنا دھرم نہیں ہے اور نہ ایسا کام کسی بھلے منش اور سعید الفطرت سے ہو سکتا ہے، لیکن مرزا صاحب آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہدایت پا جانا خود انسان کے اختیار میں نہیں ہے جب تک توفیق ایزدی اس کے شامل حال نہ ہو۔ کسی دل کو ہدایت کے لئے کھول دینا ایک ایسا امر ہے جو صرف پر میشر کے ہاتھ میں ہے۔ سو ہم لوگ جو صد با زنجیروں ، قوم، برادری ، ننگ و ناموس وغیرہ میں گرفتار ہیں کیونکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود اپنی ہی قوت سے ان زنجیروں کو توڑ کر اور اپنے سخت دل کو آپ ہی نرم کر کے آپ ہی دروازہ ہدایت اپنے نفس پر کھول دیں گے اور جو پرمیشر سرب شکتی مان کا خاص کام ہے وہ آپ ہی کر دکھائیں گے بلکہ یہ بات سعادت از لی پر موقوف ہے۔ جس کے حصہ میں وہ سعادت مقدر ہے اس کے لیے شرائط کی کیا حاجت ہے۔ اس کو تو خود توفیق از لی کشاں کشاں چشمہ ہدایت تک لے آئے گی ایسا کہ آپ بھی اس کو روک نہیں سکتے۔ اور آپ ہم سے ایسی شرطیں موقوف رکھیں۔ اگر ہم لوگ کوئی آپ کا نشان دیکھ لیں گے تو اگر ہدایت پانے کے لیے توفیق ایز دی ہمارے شامل حال ہوئی تو ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں اور پر میشر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اس قدر تو ہم ضرور کریں گے کہ آپ کے اُن نشانوں کو جو ہم بچشم خود مشاہدہ کر لیں گے۔ چند اخباروں کے ذریعہ سے بطور گواہ رؤیت شائع کرادیں گے اور آپ کے منکرین کو ملزم ولا جواب کرتے رہیں گے۔ اور آپ کی صداقت کی حقیقت کو حتی الوسع اپنی قوم میں پھیلائیں گے۔ اور بلا شبہ ہم ایک سال تک عند الضرورت آپ کے مکان پر حاضر ہو کر ہر ایک قسم کی پیشگوئی وغیرہ پر دستخط بقید تاریخ و روز کر دیا کریں گے اور کوئی بد عہدی اور کسی قسم کی نا منصفانہ حرکت ہم سے ظہور میں نہیں آئے گی ہم سراسر سچائی اور راستی سے اپنے پر میشر کو حاضر ناظر