مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 95

مجموعه اشتہارات ۹۵ جلد اول سلطنت ہو تو اس میں گورنمنٹ مداخلت کرے گی ۔ ورنہ اپنے اپنے مذہب کی ترقی کے لئے وسائل جائزہ کو استعمال میں لانا ہر یک قوم کو گورنمنٹ کی طرف سے اجازت ہے۔ پھر جس قوم کا مذہب حقیقت میں سچا ہے اور نہایت کامل اور مضبوط دلائل سے اس کی حقیت ثابت ہے۔ وہ قوم اگر نیک نیتی اور تواضع اور فروتنی سے خلق اللہ کو نفع پہنچانے کے لئے اپنے دلائل حصہ شائع کرے تو عادل گورنمنٹ کیوں اس پر ناراض ہوگی۔ ہمارے اسلامی امراء کو اس بات سے بہت کم خبر ہے کہ گورنمنٹ کی عادلا نہ مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ وہ دلی انشراح سے آزادی کو قائم رکھے اور خود ہم نے بچشم خود ایسے لائق اور نیک فطرت انگریز کئی دیکھے ہیں کہ جو مداہنہ اور منافقانہ سیرت کو پسند نہیں کرتے اور تقویٰ اور خدا ترسی اور یک رنگی کو اچھا سمجھتے ہیں اور حقیقت میں تمام برکتیں یک رنگی اور خدا ترسی میں ہی ہیں جن کا عکس کبھی نہ کبھی خویش اور بیگانہ پر پڑ جاتا ہے۔ اور جس پر خدا راضی ہے آخر اس پر خلق اللہ بھی راضی ہو جاتی ہے۔ غرض نیک نیتی اور صالحانہ قدم سے دینی اور قومی ہمدردی میں مشغول ہونا اور فی الحقیقت دنیا اور دین میں دلی جوش سے خلق اللہ کا خیر خواہ بننا ایک ایسی نیک صفت ہے کہ اس قسم کے لوگ کسی گورنمنٹ میں پائے جانا اس گورنمنٹ کا فخر ہے اور اس زمین پر آسمان سے برکات نازل ہوتی ہیں جس میں ایسے لوگ پائے جائیں۔ لیکن سخت بد نصیب وہ گورنمنٹ ہے جس کے ماتحت سب منافق ہی ہوں کہ جو گھر میں کچھ کہیں اور رو برو کچھ کہیں ۔ سو یقینا سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کا یک رنگی میں ترقی کرتا جانا اور گورنمنٹ کو ایک محسن دوست سمجھ کر بے تکلف اس کے ساتھ پیش آنا یہی خوش قسمتی گورنمنٹ انگریزی کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے مربی حکام نہ صرف قول سے آزادی کا سبق ہم کو دیتے ہیں بلکہ دینی امور میں خود آزادانہ افعال بجالا کر اپنی فعلی نصیحت سے ہم کو آزادی پر قائم کرنا چاہتے ہیں اور بطور نظیر کے یہی کافی ہے کہ شاید ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ جب ہمارے ملک کے نواب لفٹنٹ گورنر پنجاب سر چالس ایچیسن صاحب بہادر بٹالہ ضلع گورداسپورہ میں تشریف لائے تو انہوں نے گرجا گھر کی بنیاد رکھنے کے وقت نہایت سادگی اور بے تکلفی سے عیسائی مذہب سے اپنی ہمدردی ظاہر کر کے فرمایا کہ مجھ کو امید تھی کہ چند روز میں یہ ملک دینداری اور راستبازی میں بخوبی ترقی پائے گا۔ لیکن تجربہ اور مشاہدہ سے ایسا