مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 94
مجموعه اشتہارات ۹۴ جلد اول سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لو دھیانہ نے کہ جو ایک ہندور ٹیکس ہیں اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ عليه لو جو بڑے بڑے سے بطور اعانت ( پچیس روپے) بھیجے ہیں۔ سردار صاحب موصوف نے ہندو ہونے کی حالت میں اسلام سے ہمدرد سے ہمدردی ظاہر کی۔ بخیل اور ممسک مس اور ممسک مسلمانوں کو جو بڑے لقبول اور ناموں سے بلائے جاتے ہیں اور قارون کی طرح بہت سا روپیہ دبائے بیٹھے ہیں اس جگہ اپنی حالت کو سردار صاحب کے مقابلہ پر دیکھ لینا چاہیے جس حالت میں آریوں میں ایسے لوگ بھی پائے گئے ہیں کہ جو دوسری قوم کی بھی ہمدردی کرتے ہیں اور مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی کم ہیں کہ جو اپنی ہی قوم سے ہمدردی کر سکیں تو پھر کہو کہ اس قوم کی ترقی کیونکر ہو۔ اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ! دینی ہمدردی بجز مسلمانوں کے ہر ایک قوم کے امراء میں پائی جاتی ہے۔ ہاں اسلامی امیروں میں ایسے لوگ بہت ہی کم پائے جائیں گے کہ جن کو اپنے سچے اور پاک دین کا ایک ذرہ خیال ہو۔ کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ اس خاکسار نے ایک نواب صاحب سے کی خدمت میں کہ جو بہت پارسا طبع اور متقی اور فضائل علمیہ سے متصف اور قال اللہ اور قال الرسول سے بدرجہ غایت خبر رکھتے ہیں کتاب براہین احمدیہ کی اعانت کے لئے لکھا تھا۔ سواگر نواب صاحب ممدوح اس کے جواب میں یہ لکھتے کہ ہماری رائے میں کتاب ایسی عمدہ نہیں جس کے لئے کچھ مدد کی جائے تو کچھ جائے افسوس نہ تھا۔ مگر صاحب موصوف نے پہلے تو یہ لکھا کہ پندرہ میں کتابیں ضرور خریدیں گے اور پھر دوبارہ یاد دہانی پر یہ جواب آیا کہ دینی مباحثات کی کتابوں کا خریدنا یا اُن میں مدد دینا خلاف منشاء گورنمنٹ انگریزی ہے اس لیے اس ریاست سے خرید وغیرہ کی کچھ امید نہ رکھیں۔ سو ہم بھی نواب صاحب کو امید گاہ نہیں بناتے بلکہ امید گاه خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے (خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے) لیکن ہم بادب تمام عرض کرتے ہیں کہ ایسے ایسے خیالات میں گورنمنٹ کی ہجو میح ہے۔ گورنمنٹ انگریزی کا یہ اصول نہیں ہے کہ کسی قوم کو اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے سے رو کے یا دینی کتابوں کی اعانت کرنے سے منع کرے۔ ہاں اگر کوئی مضمون مخل امن یا مخالف انتظام یہ صدیق حسن خاں نواب معزول بھو پالوی کا ذکر ہے۔ (مرتب) الرعد : ١٢ ا