اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 163

اِعجاز المسیح — Page 67

۸۸ اعجاز المسيح الباب الثالث في تفسير آية بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۶۷ اردو ترجمہ تیسرا باب بابت تفسیر آیت بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إعلم وهب لك الله علم اللہ آپ کو اپنے اسماء کا علم عطا فرمائے اور اپنی رضا أسمائه۔ وهداك إلى طرق اور خوشنودی کی راہوں کی طرف رہنمائی فرمائے۔ مرضاته وسبل رضائه۔ أن الاسم جان لو کہ اسم وسم سے مشتق ہے جس کے معنی عربی زبان میں داغنے کے نشان کے ہیں ۔ مشتق من الوسم الذي هو أثر اتَّسَمَ الرَّجُلُ کہا جائے ، تو اس کا مطلب ہوتا الكي في اللسان العربية۔ يُقال ہے کہ اُس شخص نے اپنے لئے ایک نشان مقرر کر لیا اتسم الرجل إذا جعل لنفسه سمةً يُعرف بها ويُميّز بها عند العامة۔ ومنه سمت البعير ووسامه جس نشان سے وہ پہچانا جاتا ہے ۔ اور اس کے ذریعے عوام میں شناخت کیا جاتا ہے ۔ اور اہل زبان کے نزدیک (وَسم کے لفظ ) سے ہی سِمَةُ عند أهل اللسان۔ وهو ما وسم به البَعِيرِ اور وِسَامُ البَعِيرِ مشتق ہیں جس کے معنی البعير من ضروب الصور ليعين اونٹ پر داغ دے کر کوئی شکل بنانے کے ہیں تا وہ للعرفان۔ ومنه ما يُقال إنّي اس کی شناخت میں محمد ہو۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: توسمت فيه الخير ۔ وما رأيت إِنِّي تَوَسَّمْتُ فِيهِ الْخَيْرَ وَ مَا رَأَيْتُ الضَّيْرَ یعنی الضير ۔ أى تفرّست فما رأیت میں نے غور کیا اور اُس کے چہرے میں علامات خیر سمة شر في محياه۔ ولا أثر دیکھیں اور برائی کا کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ ہی خبث في محياه ومنه الوسمی اس کی زندگی میں خباثت کا کوئی اثر نظر آیا۔ اور وسم الذي هو أول مطر من أمطار سے ہی وَسُمی مشتق ہے جو موسم بہار کی پہلی بارش الربيع۔ لأنه يسمَ الأرض إذا ہے۔ کیونکہ وہ تیز برسنے کے باعث چشموں کی طرح زمین پر اپنے بہاؤ کے نشان چھوڑ جاتی ہے۔ نزل كالينابيع۔