اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 64 of 163

اِعجاز المسیح — Page 64

۸۴ اعجاز المسيح ۶۴ اردو ترجمہ والظلام۔ وتفنى الملل كلها إلا بجز اسلام تمام ملتیں نابود ہو جائیں گی ۔ زمین عدل الإسلام۔ وتُملأ الأرضُ قسطًا وانصاف اور ٹور سے بھر دی جائے گی جیسا کہ اس وعدلا ونورا۔ كما كانت ملئت سے۔ پہلے وہ ظلم وجور اور کفر اور جھوٹ سے بھری ہوئی ظلما وكفرًا وجَوْرًا وزورًا۔ تھی ۔ پس اُس وقت اُس گروہ دجال کو جس کی فهناك تقتل من سبق الوعيد ہلاکت کا وعدہ پہلے سے دیا گیا ہے قتل کیا جائے گا۔ لتدميره۔ ولا نعنى من القتل إلا کسر قوته وتنجية أسيره۔ أهل الملة۔ أن يقرء وا لفظ قتل سے ہماری مراد صرف اس کی طاقت توڑ دینے - فحاصل الكلام أن الذي يُقال له اور اس کے اسیروں کو آزاد کر دینے سے ہے ۔ الشيطان الرجيم هو الدجال حاصل کلام یہ کہ جسے شَيْطَنِ الرَّحِیم کہا گیا ہے اللئيم۔ والخنّاس القديم۔ وكان وهى لتيم دجال اور قدیم خناس ہے اور اُس کا قتل کیا قتله أمرًا موعودًا وخطبًا جانا ایک موعود امر اور معہود مقصد تھا یہی وجہ ہے کہ معهودًا ۔ ولذالك ألزم الله كافة اللہ تعالیٰ نے تمام ملتِ اسلامیہ پر یہ لازم کر دیا کہ وہ فاتحہ اور بسم اللہ پڑھنے سے پہلے لفظ رَحِیم الرجيم قبل قراءة الفاتحة وقبل البسملة۔ ليتذكر القارئ أن يعنى تعوذ پڑھیں تا کہ یہ پڑھنے والے کے ذہن وقت الدجال لا يجاوز وقت قوم نشین رہے کہ دجال کا وقت اُس قوم کے وقت سے ذكروا في آخر آية من هذه تجاوز نہیں کرے گا جن کا ذکر ان سات آیات میں الآيات السبعة۔ وكان قدر الله سے آخری آیت میں کیا گیا ہے ۔ ابتداء آفرینش كتب من بدء الأوان۔ أنه يقتل ہی سے اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر لکھ دی گئی تھی کہ مذکور الرجيم المذكور في آخر الزمان۔ ويستريح العباد من لدغ رجيم ( دجال ) آخری زمانے میں قتل کیا جائے گا۔ اور بندےاس اژدھا کے ڈسنے سے نجات پائیں هذا الثعبان ۔ فاليوم وصل الزمان إلى آخر الدائرة۔ وانتهى عمر گے۔ پس آج زمانہ اپنے دور کے آخر تک پہنچ گیا الدنيا كالسبع المثاني إلى ہے اور سَبْعَ مَثانی کی طرح دنیا کی عمر بھی شمسی اور