اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 163

اِعجاز المسیح — Page 134

اعجاز المسيح ۱۳۴ اردو ترجمہ مالك ما تفكر في قوله ہے کہ تو قول خدا فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِي اور قَدْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي وفي قوله خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ پر غور نہیں کرتا ۔ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۔ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ فرقانِ حمید کی راہ اختیار نہیں وما لك لا تختار سبيل الفرقان کرتا اور دوسری راہیں تجھے خوش کرتی ہیں حالانکہ وسَرَّكَ السُّبُلُ۔ وقد قال فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ ] فما لكم لا تفكرون۔ وقال لكم اُس نے تو فرمایا ہے کہ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ ۔ پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ غور ۱۴ و فکر نہیں کرتے۔ مزید براں اس نے فرمایا ہے کہ فيها مستقر ومتاع إلى حين۔ فكيف صار مُستقر عیسیٰ فی تمہارے لئے زمین میں ایک عرصہ تک قیام اور استفادہ السماء أو عرش رب العالمين۔ مقدر ہے۔ پھر عیسی " کا مستقر آسمان میں یا رب إن هذا إلا كذب مبين۔ وقال العَالَمِین کا عرش کیونکر ہو گیا ؟ یہ تو صریح جھوٹ سبحانه أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءِ ہے ۔ اللہ سُبْحَانَه و تعالى نے فرمایا ہے فكيف تحسبون عيسى من أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءِ پھر تم عیسی کو الأحياء الحياء الحياء ۔ يا عباد زندوں میں کیونکر سمجھتے ہو۔ شرم ! شرم ! اے بندگانِ الرحمن القرآن القرآن۔ فاتقوا خدا ! قرآن کو پکڑو ۔ اللہ سے ڈرو اور قرآن کو نہ الله ولا تتركوا الفرقان۔ إنه چھوڑو یہ وہ کتاب ہے جس کے متعلق انس وجن كتاب يُسأل عنه إنس وجان۔ سے باز پرس ہو گی ۔ تم نماز میں سورہ فاتحہ پڑھتے ۱۷۹ وإنكم تقرءون الفاتحة في الصلاة۔ ففكروا فيها يا ذوى ہو پس اے اہلِ دانش ! تم اس میں غور و فکر کرو۔ کیا الحصاة۔ ألا تجدون فيها آية تم اس میں آیت صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ عَلَيْهِمْ نہیں پاتے۔ پس تم ان لوگوں کی طرح لے پس جب تو نے مجھے وفات دے دی۔ (المائدة: ۱۱۸) یقینا اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ (ال عمران: ۱۲۵) سے تم اسی میں جیو گے اور اسی میں مرو گے۔ (الاعراف: ۲۶) ہے وہ (سب) مُردے ہیں نہ کہ زندہ۔ (النحل : ۲۲) ه الفاتحة : ۷