اِعجاز المسیح — Page 133
اعجاز المسيح ۱۳۳ اردو ترجمہ ۱۷۷ ربك في هذا الدعاء والمسألة۔ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایسا کوئی نبی نہ أن لا يغادر نبيًّا من بنى إسرائيل رہنے دے مگر اُس کا مثیل اس اُمت میں مبعوث إلا ويبعث مثيله في هذه الأمة۔ فرمائے ۔ تجھ پر افسوس! کیا تو اپنی دعا کو اتنی جلدی وَيُحَك۔ أنسِيتَ دعاء ك بهذه بھول گیا با وجود اس کے کہ تو اسے ( دن میں ) پانچ السرعة۔ مع أنك تقرأه في اوقات میں پڑھتا ہے۔ مجھے تجھ پر انتہائی تعجب الأوقات الخمسة۔ عجبت منك كل العجب۔ هذا ہے۔ کیا یہ ہے تیری دعا؟ اور یہ ہیں تیرے دعاؤك۔ وتلك آراؤك۔ خیالات؟ قرآن میں سے سورۃ فاتحہ اور سورۃ نور پر انظر إلى الفاتحة وانظر إلى غور کر قرآنی شہادت کے بعد کس گواہ کی گواہی سورة النور من الفرقان وأى قبول کی جائے گی ۔ تو اُس شخص کی طرح مت بن شاهد يُقبل بعد شهادة القرآن جس نے خدا کے خوف کا ظاہری و باطنی احساس فلا تكن كالذى سرى إيجاس ترک کر دیا بلکہ بے حیائی کو اپنا لباس اور شعار خوف الله واستشعاره۔ وتَسَرُبَلَ لباس الوقاحة وشعاره۔ أَتَترُكُ بنایا۔ کیا تو ان لوگوں کی خاطر کتاب اللہ کو چھوڑ دے گا جنہوں نے راہِ حق چھوڑی ہوئی ہے اور كتاب الله لقوم تركوا الطريق۔ تحقیق اور گہرے غور و فکر کو مکمل نہیں کیا۔ ان کی راہ وما كملوا التحقيق والتعميق۔ وإن طريقهم لا يوصل إلى مطلوب تک نہیں پہچاتی اور توحید اور پیارے اللہ کی المطلوب۔ وقد خالف التوحيد راہوں کے مخالف ہے۔ پس تو سخت راستہ کو نرم وسُبُلَ الله المحبوب۔ فلا خیال نہ کر اگر چہ قدموں کی کثرت نے اسے بالکل تحسب وَعْدًا دَمِنًا وَإِنْ دَمَّته ہموار کر دیا ہو اور خواہ بھٹ تیتروں کے جھنڈ کے كثير من الخطا ۔ وإن اهتدت جھنڈ اُس طرف گئے ہوں کیونکہ حقیقی ہدایت تو اللہ إليها أبابيل من القطا۔ فإن هدى کی ہدایت ہی ہے۔ قرآن کریم نے تو مسیح کی وفات الله هو الهدى۔ وإن القرآن شهد (۷۸) على موت المسيح۔ وأدخله فی پر شہادت دے دی ہے اور بیان صریح سے اُسے الأموات بالبيان الصريح۔ وفات یافتگان میں شامل کیا ہے ۔ تجھے کیا ہو گیا