اِعجاز المسیح — Page 123
اعجاز المسيح الله اردو ترجمہ أيامه غُرَرًا۔ وكلامه دررًا اُس کا کلام موتی اور اُس کا چہرہ چودھویں کا چاند ۱۶۳ ووجهه بدرًا۔ ومقامه صدرا ہے اور اس کا مقام صدرنشینی ہے۔ اور جو اللہ کی ومن ذل لله في صلواته أذل الله خاطر اپنی نمازوں میں فروتنی دکھائے ، اللہ اس کے له الملوك۔ و يجعل مالكا هذا سامنے بادشاہوں کو جھکا دیتا ہے اور اس غلام کو المملوك۔ ثم اعلم أن الله الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعُلَمِينَ " ۔ مالک بنا دیتا ہے۔ پھر یہ بھی جان لو کہ اللہ نے اپنے حمد ذاته أولا في قوله قول الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں سب سے پہلے اپنی ذات کی حمد بیان کی ہے پھر اُس نے ثم حث الناس على العبادة بقوله " إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ اپنے ارشاد إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ نَسْتَعِينُ ۔۔ ففي هذه إشارة کے ساتھ لوگوں کو عبادت کی ترغیب دلائی ہے۔ اور إلى أن العابد في الحقيقة۔ هو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقت میں وہی الذي يحمده حق الحمدة۔ شخص عابد ہوتا ہے جو اس کی کما حقہ حمد کرتا فحاصل هذا الدعاء والمسألة۔ ہے۔ پسا ہے۔ پس اس دعا اور التجا کا ماحصل یہ ہے ا ماحصل یہ ہے کہ اللہ ہر أن يجعل الله أحمد كل من اُس شخص کو احمد بنا دیتا ہے جو عبادت میں لگا تصدى للعبادة۔ وعلى هذا كان رہے۔ بنا بریں یہ واجب اور ضروری تھا کہ اس من الواجبات۔ أن يكون أحمد امت کے آخر میں احمد اول سید الکونین في آخر هذه الأمة على قدم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر ایک احمد پیدا أحمد الأول الذي هو سيد الكائنات ۔ ليفهم أن الدعاء ہو ، تا کہ یہ سمجھا جائے کہ مذکورہ دعا ( جو سورۃ فاتحہ میں کی گئی ہے ) وہ مجیب الدعوات کی بارگاہ استجيب من حضرة مستجيب الدعوات۔ وليكون ظهوره میں قبول ہوگئی ہے۔ اور تا اس احمد کا ظہور للاستجابة كالعلامات۔ فهذا هو استجابت دعا کے لئے بطور نشانات کے ہو۔ پس المسيح الذي كان وُعِد ظهوره یہی وہ مسیح ہے جس کا آخری زمانے میں ظہور کا ۱۶۴ こ الفاتحة : ٢ الفاتحة : ٥