سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 65
سنن ابن ماجه جلد اول حازم۔65 مقدمة المؤلف إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي نے چاہا کہ میرے پاس بعض صحابہ ہوں۔ہم نے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ الله عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم آپ کی خدمت میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ وَدِدْتُ ابوبكرا كون بلا لیں؟ آپ خاموش رہے۔پھر ہم نے أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي قُلْنَا يَا رَسُولَ کہا کہ کیا ہم آپ کی خدمت میں عمرہ کو نہ بلا لیں؟ اللَّهِ أَلَا تَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرِ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلَا آپ خاموش رہے۔پھر ہم نے کہا کہ کیا ہم آپ کی نَدْعُو لَكَ عُمَرَ فَسَكَتَ قُلْنَا أَلَا تَدْعُو لَكَ خدمت میں عثمان کو نہ بلائیں؟ آپ نے فرمایا ہاں۔وہ آئے ، آپ اُن سے تنہائی میں ملے اور نبی علی عُثْمَانَ قَالَ نَعَمْ فَجَاءَ فَخَلَا بِهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ ان سے گفتگو فرمانے لگے اور عثمان کے چہرے کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُ عُثْمَانَ رنگ بدل رہا تھا۔قیس کہتے ہیں مجھ سے ابو سہلہ جو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام تھے نے بیان کیا يَتَغَيَّرُ قَالَ قَيْسٌ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ ☆ کہ حضرت عثمان بن عفان نے یوم الدار کے موقعہ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ پر بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ وَقَالَ عَلِيٌّ فِي تاكيدى ارشاد فرمایا تھا اور میں اس کی طرف جا رہا حَدِيثِهِ وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ قَالَ قَيْس فَكَانُوا ہوں۔(راوی) علی بیان کرتے ہیں کہ انہوں ( حضرت عثمان ) نے فرمایا اَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں۔(راوی) قیس کہتے ہیں کہ يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ لوگ اس کو یہی دن سمجھے تھے۔ليوم الدار اس دن کو کہا جاتا ہے جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو منافقوں نے آپ کے گھر میں محصور کر دیا اور پھر انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔