سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 39 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 39

سنن ابن ماجه جلد اول 39 مقدمة المؤلف السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ تمہیں یقیناً دیکھ رہا ہے۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! السائل وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وہ گھڑی کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا جس سے پوچھا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْعَنَمِ فِي الْبَنْيَانِ فَذَلِكَ میں تمہیں اس کی علامات کے بارے میں بتا تا ہوں۔مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ جب باندی اپنی مالکہ کو جنے گی اور جب بکریوں کے چرواہے عمارتوں کے بلند و بالا بنانے میں مقابلہ کریں گے۔یہ اس (گھڑی ) کی نشانیوں میں سے ہے۔اس گھڑی کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضِ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ * ( ترجمہ ) يقينا الله ہی ہے جس کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش کو اُتارتا ہے اور جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ کس زمین میں وہ مرے گا۔یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا (اور ) ہمیشہ باخبر ہے۔حضرت علی بن ابی طالب نے بیان فرمایا إِسْمَعِيلَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان دل کی معرفت أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام :65: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ 65 مُوسَى الرِّضَا عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَعْفَرِ بْن ہے۔لقمان: 35