سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 27 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 27

سنن ابن ماجه جلد اول 27 مقدمة المؤلف إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ اور سب سے اچھی ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے۔بْنِ مَسْعُود أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خبر دار نئی نئی باتوں سے بچو بد ترین امور ان کی نئی وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ الْكَلَامُ وَالْهَدْيُ باتیں ہیں کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت فَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ گمراہی ہے۔خبردار ایسا نہ ہو کہ تم پر مدت لمبی ہو هَدْيُ مُحَمَّد أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُور جائے اور تمہارے دل سخت ہو جائیں۔خبر دار وہ چیز فَإِنْ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ جو آنے والی ہے وہ قریب ہے اور دور وہ چیز ہے جو بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ أَلَا لَا يَطُولَنَّ آنے والی نہیں ہے۔خبردار بد بخت تو وہ ہے جو عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ أَلَا إِنَّ مَا هُوَ بدبخت ہوگیا اپنی ماں کے پیٹ میں اور سعادت مند آتٍ قَرِيبٌ وَإِنَّمَا الْبَعِيدُ مَا لَيْسَ بِآتٍ أَلَا وہ ہے جس نے کسی اور سے نصیحت حاصل کی۔سنو! أَنَّمَا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ کسی مومن سے قتال کفر ہے اور اس کو گالی دینا فسق مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ أَلَا إِنَّ قِتَالَ الْمُؤْمِن كَفَرٌ ہے۔کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔سنو! جھوٹ وَسَبَابُهُ فُسُوقُ وَلَا يَحِلَّ لِمُسْلِمِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَ أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ سے بچو کیونکہ جھوٹ بولنا نہ ہنسی مذاق میں درست ہے نہ سنجیدہ امور میں۔کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ بِالْجِدٌ وَلَا بِالْهَزْلِ وَلَا نہ کرے کہ پھر اسے پورا نہ کرے۔اور جھوٹ بدی کی يَعِدِ الرَّجُلُ صَبِيَّهُ ثُمَّ لَا يَفِيَ لَهُ فَإِنَّ الْكَذِبَ طرف لے جاتا ہے اور بدی آگ کی طرف۔سچ نیکی يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے النَّارَ وَإِنَّ الصَّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ جاتی ہے۔سچ بولنے والے کو کہا جائے گا کہ اس نے يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةَ وَإِنَّهُ يُقَالُ للصَّادِقِ سچ بولا اور نیکی کی ، اور جھوٹے کو کہا جائے گا کہ اُس صَدَقَ وَبَرَّ وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ كَذَبَ وَفَجَرَ نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا۔سنو! یقیناً بندہ جھوٹ بولتا أَلَا وَإِنَّ الْعَبْدَ يَكْذِبُ حَتَّى يُكتب عندَ الله چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک کذاب یعنی كذابًا بہت جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ی نئی نئی بات سے مراد وہ بات ہے جو شریعت کے منشاء کے خلاف ہو۔