سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 367
سنن ابن ماجه جلد اول 367 كتاب الصلاة رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تو آرام کے لئے پڑاؤ کیا اور بلال سے فرمایا کہ آج قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَسَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا رات ہماری نماز کے وقت کی ) حفاظت کرو۔پھر أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ وَقَالَ لبلال اكلا لنا حضرت بلال نے جتنی ان کے لئے مقدر تھی نماز پڑھی اللَّيْلَ فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قَدَّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ھو گئے۔جب اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَلَمَّا فجر کا وقت قریب آیا تو بلال نے صبح کی سمت رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کا سہارا لیا تو بلال پر نیند تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَته غالب آگئی جبکہ وہ اپنی اونٹنی سے ٹیک لگائے مُوَاجةَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَندَّ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظُ بِلَالٌ وَلَا ہوئے تھے۔پس نہ تو بلال بیدار ہوئے اور نہ ہی آپ کے اصحاب میں سے کوئی ، یہانتک کہ دھوپ ان أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابه حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ پر پڑی۔رسول اللہ ﷺے ان میں سب سے پہلے فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جاگے۔رسول اللہ فکر مند ہوئے اور فرمایا أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اے بلال! بلال نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْ بِلَالُ فَقَالَ بِلَالٌ ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔میری روح کو بھی اسی أَخَذَ بِنَفْسي الَّذِي أَخَذَ بَنَفْسِكَ بِأَبِي أَنتَ ذات نے روکے رکھا جس نے آپ کو روکے رکھا۔وَأُمِّى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ اقْتَادُوا فَاقْتَادُوا آپ نے فرمایا کہ روانہ ہو۔چنانچہ انہوں نے اپنی رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی سواریوں کو تھوڑا سا چلایا پھر رسول اللہ ﷺ نے وضو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فرمایا اور بلال کو ارشاد فرمایا انہوں نے نماز کی فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اقامت کہی۔پھر آپ نے انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ نَسِيَ جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا کہ جو نماز صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ بھول جائے تو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے اسے وَجَلَّ قَالَ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي قَالَ وَكَانَ پڑھ لے کیونکہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ نماز کو ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا لِلذِّكْرَى میرے ذکر کے لئے قائم کرو۔ایک روایت میں ( لِذِكْرِئ کی بجائے ) للذكرى کے الفاظ ہیں۔