سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 159 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 159

سنن ابن ماجه جلد اول 159 كتاب الطهاره وسننها أَنَّ رَسُولَ الله صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ والی ہے۔جبریل جب بھی میرے پاس آتے ہیں ، تَسَوَّكُوا فَإِنَّ السَّوَاكَ مَظْهَرَةٌ لِلْقَمِ مَرْضَاةً مجھے مسواک کرنے کی وصیت کرتے ہیں یہاں تک کہ للرَّبِّ مَا جَاءَنِي جِبْرِيلُ إِلَّا أَوْصَانِي میں ڈرا کہ کہیں مجھ پر اور میری امت پر فرض ہی نہ بالسِّوَاكَ حَتَّى لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيَّ ہو جائے ، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خدشہ نہ ہوتا وَعَلَى أُمَّتِي وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَشُقَّ عَلَى تو میں اسے اُن کے لئے فرض قرار دے دیتا اور میں أُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ وَإِنِّي لَأَسْتاكَ حَتَّى لَقَدْ مسواک کرتا ہوں یہاں تک کہ ڈرتا ہوں کہ میں اپنے خَشِيتُ أَنْ أَحْفِيَ مَقَادِمَ فَمِي منہ کے سامنے کے حصے چھیل نہ دوں۔اريم 290: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا :290 شریح بن ہانی نے حضرت عائشہ سے پوچھا شَرِيكَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ بْنِ هَانِي عَنْ کہ مجھے بتائیے کہ جب نبی ﷺ آپ کے گھر آتے أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ أَخبريني بِأَيِّ ہیں تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں۔حضرت عائشہ " شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدَأُ نے فرمایا جب حضور ﷺ تشریف لاتے تو سب سے إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ قَالَتْ كَانَ إِذَا دَخَلَ يَبْد پہلے مسواک سے آغاز کرتے۔بالسواك 291 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا 291 حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا کہ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں۔انہیں مسواک عُثْمَانَ بْن سَاجِ عَنْ سَعِيد بْن جُبَيْر عَنْ سے پاک کیا کرو۔علي بن أَبِي طَالِبٍ قَالَ إِنْ أَفْوَاهَكُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْآنِ فَطَيِّبُوهَا بِالسَّوَاكِ 290 تخريج : بخارى كتاب الوضوء باب السواك ،244 245 مسلم كتاب الطهارة باب السواك 363 364 ابوداؤد كتاب الطهارة باب فى الرم۔بسواک غیره 51 نسائى كتاب الطهارة السواك في كل حين 8