سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 136
سنن ابن ماجه جلد اول 136 22: بَاب الْوَصَاةِ بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ علم طلب کرنے والوں کے بارے میں وصیت مقدمة المؤلف 247: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَاشِدِ 247 حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے الْمُصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ عَنْ أَبِي که رسول الله ﷺ نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس هَارُونَ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قومیں علم حاصل کرنے کے لئے آئیں گی ، جب تم عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اُن کو دیکھو تو رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَإِذَا اُن کو مرحبا مرحبا کہو اور انہیں مالا مال کر دو۔( راوی رَأَيْتُمُوهُمْ فَقُولُوا لَهُمْ مَرْحَبًا مَرْحَبًا کہتے ہیں میں نے حكم سے کہا اقْنُوهُمُ سے کیا ) بوَصِيَّة رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مراد ہے؟ انہوں نے کہا اُن کو سکھاؤ۔وَاقْنُوهُمْ عَلِّمُوهُمْ قُلْتُ لِلْحَكَمِ مَا اقْنُوهُمْ قَالَ 248: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّه بْنُ عَامر بن زُرَارَةَ :248 اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم حضرت حسن حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالِ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ کے پاس اُن کی عیادت کے لئے گئے یہاں تک دَخَلْنَا عَلَى الْحَسَن تَعُودُهُ حَتَّى مَلان کہ ہم نے گھر بھر دیا۔انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ الْبَيْتَ فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى لئے ، پھر انہوں (حضرت حسن بصری) نے کہا کہ ہم أَبِي هُرَيْرَةَ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأَنَا الْبَيْتَ فَقَبَضَ حضرت ابو ہریرہ کی عیادت کے لئے گئے یہاں رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ تک کہ ہم نے گھر بھر دیا تو انہوں نے اپنے پاؤں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَلَأَنَا الْبَيْتَ سمیٹ لئے۔انہوں (حضرت ابو ہریرہ) نے کہا کہ وَهُوَ مُصْطَجِعْ لِجَنْبِهِ فَلَمَّا رَآنَا قَبَضَ ہم رسول اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ مِنْ بَعْدِي یہاں تک کہ ہم نے گھر بھر دیا اور آپ اپنے پہلو کے 247 اطراف ابن ماجه مقدمة المؤلف باب الوصاة بطلبة العلم 248 ، 249 تخريج: ترمذی کتاب العلم باب ما جاء في الاستيصاء يمن يطلب العلم 2650 ، 2651 248 اطراف ابن ماجه مقدمة المؤلف باب الوصاة بطلبة العلم 247 ، 249 تخريج: ترمذی کتاب العلم باب ما جاء فى الاستبصاء بمن يطلب العلم 2650 ، 2651