سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 120
سنن ابن ماجه جلد اول 120 مقدمة المؤلف عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ عُمَرُ مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى ان پر ابن آبزی کو جانشین مقرر کیا ہے۔حضرت عمر أَهْلِ الْوَادِي قَالَ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ نے دریافت فرمایا کون ابن ابڑ کی ؟ انہوں نے أَبْرَى قَالَ وَمَنِ ابْنُ أَبْرَى قَالَ رَجُلٌ مِنْ جواب دیا کہ ایک آدمی جو ہمارے آزاد کردہ مَوَالِينَا قَالَ عُمَرُ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلى غلاموں میں سے ہے۔حضرت عمر نے فرمایا تو تم نے قَالَ إِنَّهُ قَارِيٍّ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى عَالِمٌ ان پر ایک آزاد کردہ غلام اپنا جانشین مقرر کر دیا۔بالْفَرَائِضِ قَاضِ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَيَّكُمْ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اللہ تعالی کی کتاب کا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ پڑھنے والا اور فرائض کا عالم ، قاضی ہے۔حضرت عمر بهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ نے فرمایا ہاں ہاں تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ اس کتاب کے ذریعہ بہت سی قوموں کو بلند کر دے گا اور بعض دوسری قوموں کو اس کے ذریعہ نیچا کر دے گا۔219 : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ 219 حضرت ابو ذر نے بیان کیا کہ مجھے حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبِ الْعَبَّادَانِيُّ عَنْ رسول الله ﷺ نے فرمایا اے ابوذرا یہ کہ تم صبح اللہ کی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادِ الْبَحْرَانِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ کتاب سے ایک آیت سیکھ لو ، تو یہ تمہارے لئے سو زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي ذَرِّ قَالَ رکعت نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور یہ کہ تم صبح کو ایک قَالَ لِي رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب علم کا سیکھ لو۔اس پر عمل کیا جائے ، یا نہ کیا جائے، الله تمہارے لئے ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔يَا أَبَا ذَرِّ لَأَنْ تَعْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ ا خيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَة وَلَانْ تَعْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ