سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 103
سنن ابن ماجه جلد اول 103 مقدمة المؤلف إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ کے پاس تمہارے لئے ایک وعدہ ہے اور وہ اسے يُنْجِزَ كُمُوهُ فَيَقُولُونَ وَمَا هُوَ أَلَمْ يُنَقِّلِ اللَّهُ تمہارے لئے پورا کرنا چاہتا ہے۔پس وہ کہیں گے وہ ا مَوَازِينَنَا وَيُبَيِّضُ وُجُوهَنَا وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ کیا ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے پلڑے بھاری نہیں وَيُنْجِنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَيَكْشَفُ الْحجاب کر دیے اور ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا اور رُونَ إِلَيْهِ فَوَالله مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا ؟ اور ہمیں آگ سے أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ يَعْنِي إِلَيْهِ وَلَا أَقَرَّ نجات نہیں دی؟ فرمایا پس وہ پردہ ہٹائے گا۔وہ اس کی طرف دیکھیں گے اور اللہ کی قسم !جو کچھ اللہ نے لأعينهم ان کو دیا ہے ان میں سے کوئی چیز اس کی طرف دیکھنے سے پیاری نہیں ہوگی اور نہ ان کی آنکھوں کو زیادہ ٹھنڈک دینے والی۔188: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو :188 حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ ہر طرح مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ کی حمد اللہ کے لئے ہے وہ سب آواز میں سنتا ہے۔عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ایک بحث کرنے والی نبی ﷺ کے پاس آئی اور میں الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ گھر میں ایک طرف تھی۔وہ اپنے شوہر کی شکایت لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادَلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ کر رہی تھی جو وہ کہہ رہی تھی وہ میں نے نہیں سنا۔پس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ تَشكُو اللہ تعالیٰ نے یہ کلام اتارا قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي زَوْجَهَا وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ قَدْ تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا * ( ترجمہ ) يقينا سن لی ہے سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا الله نے اس کی بات جو اپنے خاوند کے بارہ میں تجھ سے بحث کرتی تھی۔المجادله : 2 188 اطراف ابن ماجه کتاب الطلاق باب الظهار 2063 تخريج: بخارى كتاب التوحيد باب قول الله تعالى وكان الله سميعا بصيرا نسائي كتاب الطلاق باب الظهار 3460 ابوداؤد کتاب الطلاق باب في الظهار 2214