سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 100 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 100

سنن ابن ماجه جلد اول 100 مقدمة المؤلف بالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ سے ”نجوٹی“ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبد اللہ بن عمر نے جواب دیا کہ میں نے وَسَلَّمَ يَذَكُرُ في النَّجْوَى قَالَ سَمِعْتَ رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ایک مومن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قیامت کے دن اپنے رب کے قریب کیا جائے گا يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى یہاں تک کہ وہ اس پر ( رحمت کا ) ہاتھ رکھے گا۔پھر يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ وہ (اللہ ) اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا هَلْ تَعْرِفُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ أَعْرِفُ حَتَّى إِذَا اور پوچھے گا کیا تو جانتا ہے؟ وہ بندہ کہے گا اے بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ قَالَ إِنِّي میرے رب میں جانتا ہوں ، یہاں تک کہ وہ اس سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ حالت تک پہنچ جائے گا جہاں اللہ چاہتا ہے کہ وہ پہنچے الْيَوْمَ قَالَ ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ أَوْ اللہ فرمائے گا میں نے دنیا میں ان (گناہوں) پر كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ قَالَ وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ تمہاری پردہ پوشی کی میں آج انہیں تیرے لئے بخشا فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قَالَ خَالِدٌ فِي ہوں اور فرمایا پھر اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا فرمایا اس کی اور الْأَشْهَادِ شَيْءٌ مِنْ القِطَاعِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی جائے گی۔فرمایا كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى جہاں تک کا فریا منافق کا تعلق ہے اسے گواہوں کے الظَّالِمِينَ سامنے پکارا جائے گا۔هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ* (ترجمہ) یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔خبردار! ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔184 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْن أَبي :184 حضرت جابر بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِي رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس اثناء میں کہ اہل جنت حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اپنی نعمتوں میں ہوں گے، ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنا ہور: 19