حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 69

حمامة البشرى ۶۹ اردو ترجمه ولكن الله قدم لفظ ”المتوفى على لفظ لیکن خدا نے نظم کلام کے واسطے مضطر ہو رافعك وعلى لفظ "مطهرك وغيرها کر اس کو مقدم کر دیا ہے اور اور باوج باوجود اس مع حذف بعض الفقرات الضرورية رعاية کے کچھ ضروری فقرے حذف کر دیئے لصفاء نظم الكلام كالمضطرين۔ وكان ہیں اور چونکہ رعایت نظم کے لئے مضطر اللفظ المذكور يعني إِنِّي مُتَوَفِّيكَ في آخر ألفاظ الآية، فوضعه الله في أولها اضطرارا لرعاية النظم المحكم، وكان الله ہو کر خدا نے لفظ توفی کو مقدم کیا ہے جو دراصل مؤخر تھا لہذا اس تقدیم و تاخیر میں خدا معذور ہے ۔ کیونکہ اضطرار کی وجہ سے الفاظ غیرمحل میں رکھے ہیں اور في هذا التأخير والتقديم من المعذورين، فلأجل هذا الاضطرار وضع الألفاظ في غير مواضعها وجعل القرآن عضين۔ والآية قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے اور یہ آیت کریمہ اُن کے خیال میں در حقیقت یوں تھی بزعمهم كانت في الأصل على هذه الصورة: يا عيسى إني رافعك إلى اے عیسیٰ میں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا بقية الحاشية - ما عرفوها وما رعوها حق بقیہ حاشیہ۔ اور نہ ان کو جانا اور نہ ان کی پوری رعایت کی رعايتها، وأكبّوا على كتب أخرى اور اور کتابوں پر اعراض کرنے والوں کی طرح جھکے رہے كالمعرضين۔ ولو أنهم توجهوا إلى القرآن اور اگر اس کی طرف متوجہ ہوتے تو اللہ کریم ان پر ہر ایک لكشف الله عليهم سِرَّ كل حقيقة ونجاهم حقیقت کا سر کھولد یتا اور شبہات کے جنگل بیابان سے ان کو من برارى الشبهات، ولكنهم ما شاؤوا أن نجات دیتا لیکن انہوں نے نورانی بننا نہ چاہا اور اندھے پن ينوروا واختاروا العمى وعادوا قوما کو پسند کر لیا اور نورانی لوگوں کے دشمن بن گئے پس ان کی منورين۔ فمن أعظم خطياتهم أنهم لم يفهموا بڑی خطاؤں سے یہ ہے کہ انہوں نے مسیح موعود کی حقیقت حقيقة المسيح الموعود الذي أُخبروا عنه، نہ سمجھی کہ جس کی ان کو خبر دی گئی تھی اور کہنے لگے کہ عیسی بن وقالوا إن عيسى بن مريم عليه السلام ينزل من مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے حالانکہ وہ قرآن میں پڑھتے السماء ، وقد كانوا يقرأون في القرآن أنه تُوفّى تھے کہ وہ مرکز اپنے اُن بھائیوں سے جا ملا ہے کہ جو اس سے ولحق بإخوانه الذين خلوا من قبله، فنسوا ما پہلے وفات پاچکے تھے۔ پس وہ جو کچھ جانتے تھے اسے بھول بیٹھے كانوا يعلمون واتبعوا ما قيل بعد المئتين، اور جو دو صدیوں کے بعد باتیں کہی گئیں تھیں ان کے متبع بنے