حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 213

حمامة البشرى ۲۱۳ اردو ترجمه فلا يقال إن لفظ يُحيى اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ لفظ يُحيي یہاں ههنا بمعنى يُنبت من حيث لغت کے لحاظ سے يُنبتُ کے معنوں میں آیا اللغة، بل هو استعارة، والمقصود ہے بلکہ وہ ایک استعارہ ہے۔ اور اس سے منه تشبيه الإنبات بالإحياء ، مقصود انبات (اُگانے) کو احیاء (زندہ کرنے) لِيُستَدَلَّ به على بعث الموتی کے ساتھ تشبیہ دینا ہے۔ تاکہ وہ اِس سے مُردوں وكما قال : فَأَصَمَّهُمْ وَاَعْلَى کے اُٹھائے جانے پر استدلال کرے۔ نیز اسی أَبْصَارَهُمْ ، فلا يُقال إن لفظ طرح الله عز وجل نے فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْلَى أَصَمَّهُمْ وَ أَعْمَى بمعنى أَبْصَارَهُمْ ے فرمایا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا أضلهم من حيث اللغة که أَصَمَّهُمْ وَأَعْمٰی کے الفاظ کے معنی لغت کی بل هي استعارة، والمقصود منها رو سے اُنہیں گمراہ کرنے کے ہیں۔ بلکہ یہ ایک تشبيه الضالين المعرضين استعارہ ہے جس سے مراد اعرا مراد اعراض کرنے والے بالصم والعمى۔ فلا تطمع گمراہوں کو بہروں اور اندھوں کے ساتھ تشبیہ ولا تتعب نفسك في أن دیتا ہے۔ پس نہ تو تو طمع کر اور نہ ہی تو اپنے آپ تجعل معنى التوفى الإنامة کو اس مشقت میں ڈال کہ تو لغت کی رو سے توفی من حيث اللغة، فإنه إن كان کے معنی سُلانے کے کرے۔ کیونکہ اگر ایسا کرنا ذلك هو الحق فلزمك درست ہوتا تو تجھ پر یہ لازم آتا کہ تو اقرار کرے کہ أن تقر بأن لفظ يحيى آيت يُحْيِ الْأَرْضَ کے میں لفظ يُحْيِنُ ﴿٥٩﴾ في آية يُحْيِ الْأَرْضَ بمعنى کے معنی يُنبتُ (اُگانے) کے ہیں۔ پھر تو (ان ينبت، ثم تثبتها من كتب اللغة، معنوں ) کو لغت کی کتابوں سے ثابت بھی کرتا۔ لے اور اس نے انہیں بہرہ کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔ (محمد: ۲۴) وہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ (الروم: ۲۰)