حَمامة البشریٰ — Page 195
حمامة البشرى ۱۹۵ اردو ترجمه هذا ما ذكرنا من نصوص القرآن یہ وہ ذکر ہے جو ہم نے مسیح کی وفات اور ان کے على وفاة المسيح و علی نفی مادی جسم کے ساتھ آسمان پر نہ جانے اور اُن کے صعوده مع الجسم العنصری دنیا کی طرف رجوع نہ کرنے کے بارے میں ☆ ☆ ونفي رجوعه إلى الدنيا ۔ و أما نصوص قرآنیہ سے کیا ہے اور جہاں تک احادیث الأحاديث النبوية فلن تجد فيها أثرًا نبویہ کا تعلق ہے تو تو ان میں مسیح کے مادی جسم کے من رفع المسيح بجسمه العنصری، ساتھ اٹھائے جانے کا کوئی نشان نہیں پائے گا۔ L الحاشية قال بعض الناس الذي لا علم عنده حاشیہ۔ کسی بے علم شخص نے کہا ہے کہ آیت وَمَا ۵۶ إن آية وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ اور لَهُمْ وَآيَةٍ بَلْ رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ دليل على آيت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ " مسیح کے مادی جسم أن المسيح رفع حيا بجسمه العنصري۔ کے ساتھ زندہ اٹھائے جانے پر دلیل ہے۔ صلى الله ۔ بقية الحاشية صفحه ۱۹۴ ـ وفيه رد على الذين بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۴۔ اور اس میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ يقولون لم لا يجوز أن يُرفع أحد بجسمه العنصری کسی شخص کا خا کی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا جانا اور اس میں إلى السماء ويحيا فيها إلى مدة أرادها الله؟ اللہ کی منشا کے مطابق ایک مدت تک زندہ رہنا کیوں جائز نہیں ؟ بقية الحاشية تحت الحاشية - والبخارى بقیه حاشیه در حاشیہ اور امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب ذكر هذا الحديث في كتاب التفسير ليشير التفسیر میں اس لئے بیان کیا ہے کہ وہ یہ اشارہ کریں کہ رسول إلى أن قول رسول الله صلى الله عليه وسلم الله علی کا قول اور ) پھر ( حضور کا آ : ر حضور کا آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا اپنی واستعماله آية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَني لنفسه كما ذات کے لئے استعمال کرنا ، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اسے استـعـمــل عيسى لنفسه نوع من التفسیر اپنے لئے استعمال کیا ہے یہ تفسیر کی ایک قسم ہے اور اسی لئے ولأجل ذلك أيـد البخارى هذا التفسیر امام بخاری نے اس تفسیر کی تائید ابن عباس کے قول سے کی ہے بقول ابن عباس مُتَوَفِّيكَ : مُمِيتُكَ ۔ والبخارى یعنی مُتَوَفِّيكَ : مُمِيتُكَ اور (یوں ) امام بخاری نے اس أشار إلى مذهبه المختار بهذا الاجتهاد۔ اجتہاد کے ساتھ اپنے اختیار کردہ مسلک کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ے اور وہ یقینا اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے کر مار ) سکے لیکن ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔ (النساء: ۱۵۸) ے بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا۔ (النساء:۱۵۹)