حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 194

حمامة البشرى ۱۹۴ اردو ترجمه وما هذا إلا الجنة والنار، فتدبر اور یہ جنت اور جہنم ہی ہے لہذا تدبر کرنے والوں ☆ مع المتدبرين۔ کے ساتھ تو بھی تدبر کریں الحاشية اعلم أن وفاة عيسى علیه السلام - تو جان لے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قطعی اور یقینی نصوص * L * L ثابت بالنصوص القطعية اليقينية، وإن تطلب الثبوت سے ثابت ہے اور اگر تو اس کا ثبوت قرآن سے چاہتا ہے تو (وہ من القرآن فتجد فيه آية يُعيسى إني ثبوت تو آيت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ ، اور آیت مُتَوَفِّيْكَ، وآية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي، وآية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي اور آیت كَانَا يَا كُلْنِ الطَّعَامَ ہے اور كَانَا يَا كُلْنِ الطَّعَامَ ، وآية وَمَا مُحَمَّدٌ آيت وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الرُّسُلُ ، اور آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ وآية فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ۔ وهذہ میں پائے گا ۔ اور یہ آخری آیت اپنے منطوق کے ساتھ الآية الأخيرة تدل بمنطوقها على أن بنی یہ دلالت کرتی ہے کہ بنی آدم خاص طور پر زمین میں آدم يحيون في الأرض خاصة ولا يصعدون زندہ رہیں گے اور وہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان إلى السماء بجسمهم العنصري، لأن لفظ کی طرف صعود نہیں کریں گے کیونکہ فِيهَا کا لفظ جو تَحْيَوْنَ فيها الذي هو مقدم على لفظ تَحْيَوْنَ کے لفظ سے مقدم ہے وہ زندگی کی تخصیص کو زمین کے يوجب تخصيص الحياة بالأرض ويُقيد بها، ساتھ وابستہ کرتا اور اس کے ساتھ مقید کرتا ہے الحاشية تحت الحاشية - وأما حاشیہ در حاشیہ۔ جہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثبوت وفاة عيسى عليه السلام من قول کا رسول اللہ ﷺ کے قول سے ثبوت ہے تو تجھ پر یہ اس رسول الله صلى الله عليه وسلم فينكشف وقت منکشف ہوگا ۔ جب تو بخاری کی اس حدیث پر غور کرے عليك إذا تدبّرت في حديث البخاري الذي جاء في تفسير آية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي گا جو آيت فَلَمَّا تَوَفَيْتَنِي کی تفسیر میں وارد ہوئی ہے اے عیسیٰ یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔ (ال عمران: ۵۶) ۲، پس جب تو نے مجھے وفات دے دی۔ (المائدة: ۱۱۸) سے وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ (المائدة: ۷۶ ) محمد نہیں ہے مگر ایک رسول یقیناً اُس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں ۔ (ال عمران: ۱۴۵) ه تم اسی (زمین) میں جیو گے اور اسی میں مرو گے۔ (الاعراف: ۲۶)