حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 178

حمامة البشرى ۱۷۸ اردو ترجمه ثم أميت بلا توقف، وما رجع إلى پھر اسے بلا توقف مار دیا جائے اور وہ اپنے گھر واپس بيته، وما عاد إلى أهله وإلى نہ آئے اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کی طرف اور دنیاوی شهوات الدنيا ولذاتها، وما كان له خواہشات اور لذات کی جانب لوٹے۔ اور اُسے یہ خيرةٌ مِن أن تُرَدّ إليه زوجه وأمواله اختیار حاصل نہ ہو کہ اُس کی بیوی اور اُس کے اموال وكل ما ملكت يمينه من ورثاء اور اس کی مملوکہ تمام اشیاء دوسرے ورثاء سے لے کر آخرين، بل ما مَسَّ شيئا منها ومات اُسے لوٹائی جائیں بلکہ اُس نے ان (مذکورہ) چیزوں بلا مكث ولحق بالميتين، فلا میں سے کسی ایک چیز کو چھوا تک نہ ہو اور وہ بلا توقف نسمى مثل هذه الإحياء إحياء مر گیا ہو اور مردوں سے جاملا ہو۔ تو ہم ایسے زندہ ہونے حقيقيا، بل نسميه آية من آيات كا نام حقیقی احیاء نہیں رکھ سکتے ۔ بلکہ ہم اسے اللہ تعالیٰ الله تعالى ونفوض حقيقته إلى کے نشانات میں سے ایک نشان کہیں گے اور اس کی رب العالمين۔ حقیقت رب العالمین کے سپرد کر دیں گے۔ ولا شك أن إحياء الموتى اور بے شک مردوں کا زندہ کرنا اور اُنہیں دنیا وإرسالهم إلى الدنيا يقلب کی طرف بھیجنا کتاب اللہ کو الٹا کے رکھ دے گا كتاب الله بل يُثبت أنه ناقص، بلکہ یہ ثابت کرے گا کہ وہ ناقص ہے، اور لوگوں کے دین و دنیا کے لئے بے حد موجب فتنہ ہوگا اور ويوجب فتنا كثيرة في دين الناس ودنياهم، وأكبرها فتن الدين۔ مثلا كانت امرأة نكحت زوجًا فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ دین کا فتنہ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک عورت نے ایک خاوند سے نکاح کیا اور وہ مر گیا ۔ پھر اُس نے ایک دوسرے خاوند فتوقی، فنکحت زوجا آخر سے شادی کر لی ، مگر وہ بھی وفات یا گیا۔ پھر اُس فتوقي، فنكحت ثالثا فتُوفّی نے تیسرے سے شادی کی اور وہ بھی چل بسا۔ فأحياهم الله تعالى في وقت واحد، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بیک وقت زندہ کر دیا