حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 126

حمامة البشرى ۱۲۶ اردو ترجمه ولو كان المراد من لفظ اور اگر دجال کے لفظ سے کوئی خاص شخص مراد ہوتا تو الدجال رجلا خاصا لبين النبي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس شخص کا نام ضرور بیان صلى الله عليه وسلم اسم ذلك فرماتے جسے دجال کا لقب دیا گیا۔ یعنی وہ نام جو اس الرجل الذي لقب بالدجال، أعنی کے والدین نے اُس کا رکھا۔ اور پھر حضور اُس کے الاسم الذي سماه والداه والدین کے اسماء بھی بیان فرماتے لیکن حضور نے اُس وبين اسم والديه، ولكن لم يبين کے والد اور والدہ کے نام کی کوئی وضاحت و صراحت ولم يصرح اسم أبيه وأمه۔ فوجب نہیں فرمائی۔ لہذا ہم پر لازم ہے کہ ہم خود اپنی طرف سے علينا أن لا ننحت من عند أنفسنا کوئی خاص شخص تجویز نہ کریں بلکہ ہم لغت عرب دیکھیں رجلا خاصا، بل ننظر فی لسان اور اُن معنوں کو مقدم کریں جن کی طرف قریش العرب، ونقدم معنى يهدى إليه لغة کی زبان ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ پھر جب اُس ۳۹) قريش، فإذا ثبت معناه أنه (رجال) کے معنی ثابت ہو جائیں کہ وہ مکاروں کا گروہ فئة الكائدين فوجب بضرورة ہے۔ تو اس لفظ کے معنی کے التزام کی ضرورت کے التزام مـعـنـى الـلـفـظ أن نقر بأنه ساتھ یہ لازم ہو گیا کہ ہم اس امر کا اقرار کریں کہ وہ فئة عظيمة فاقوا مکرا و کیدا (رجال) ایک بڑا گر وہ ہے جو مکر و فریب اور تلبیس میں وتلبيسا أهل زمانهم، ونجسوا اپنے ہم عصروں پر بازی لے گیا۔ اور انہوں نے اپنے الأرض كلها بخيالاتهم الفاسدة ثم فاسد خیالات سے تمام زمین کو نا پاک کر دیا۔ پھر جب إذا رجعنا إلى القرآن و نظرنا فيه۔ ہم قرآن کی طرف رجوع کرتے اور اس میں غور کرتے هل هو يبين ذكر رجل خاص ہیں کہ کیا اس نے دجال نامی کسی خاص شخص کا ذکر کیا مسمى دجالا، فلا نجد فيه منه ہے تو اس میں اس کا نہ کوئی نشان اور نہ ہی اس کی طرف أثرًا ولا إليه إشارة، مع أنه كفل ذِكْرَ اشارہ پاتے ہیں۔ حالانکہ ان بڑے بڑے واقعات جن واقعات عظيمة لها دخل فی الدین کا دین میں دخل ہے، کو بیان کرنے کا وہ ضامن ہے۔