حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 116

حمامة البشرى ١١۶ اردو ترجمه و إلا فما كان فائدة في ذكره، ورنہ اُس کے ذکر کرنے سے کیا فائدہ تھا۔ اور وكم من نبي قُتلوا فی سبیل اللہ کتنے ہی ایسے نبی ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل کئے وما جاء ذكر قتلهم في القرآن گئے لیکن قرآن میں اُن کے قتل کا ذکر نہیں آیا۔ فخذ مني هذه النكتة وكن پس یہ نکتہ مجھ سے لے لو اور تصدیق کرنے والوں من المصدقين۔ میں شامل ہو جا۔ وربما يختلج في قلبك أن شاید یہ بات تیرے دل میں کھٹکے کہ رسول اللہ رسول الله صلى الله عليه وسلم لم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی آمد کے ذکر کے اختار لفظ النزول عند ذكر مجيء وقت ہر جگہ نزول کا لفظ کیوں اختیار فرمایا اور بعثت المسيح الموعود فی کل مقام اور ارسال اور دیگر الفاظ کو کیوں ترک کیا؟ پس وترك لفظ البعث والإرسال وغیر جاننا چاہئے کہ اس میں ایک بہت بڑا راز ہے جس ذلك۔ فاعلم أن فيه سر عظيم قد کی طرف قرآن نے متفرق مقامات میں اشارہ أشار إليه القرآن فی مقامات شتی کیا ہے۔ اور وہ یہ کہ اللہ کے انبیاء علیہم السلام اپنی وهو أن أنبياء الله عليهم السلام وفات کے بعد، اس عالم سے منقطع ہوکر اللہ کی يُرفعون إلى الله بعد وفاتهم طرف اُٹھائے جاتے ہیں اور انہیں اس ترک کردہ منقطعين من هذا العالم، لا يكون عالم کے لئے کوئی ھم و غم نہیں ہوتا، بلکہ وہ خوشی لهم اهتمام ولا فکر لعالم تر کوه خوشی اپنے رب سے جا ملتے ہیں اور تمام قدرتوں بل يصلون ربهم فرحين، ويقعدون کے مالک خدا کے پاس آرام و آسائش کے ساتھ عند مليك مقتدر بطيب العيش شاداں و فرحاں بیٹھ جاتے ہیں اور واصل باللہ والحبور والسرور، ويلحقون لوگوں کے گروہ میں مل جاتے ہیں۔ اور کبھی بالواصلين۔ وقد يتفق أن أمة أحد یوں بھی اتفاق ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی ایک منهم تُفسد إفسادًا عظيمًا في الأرض (نبی) کی امت زمین میں فساد عظیم برپا کرتی