حَمامة البشریٰ — Page 115
حمامة البشرى ۱۱۵ اردو ترجمه ا وكان مقعدهم عند مليك اور ان كا مقام قدرت رکھنے والے بادشاہ کے مقتدر، وقد وجد نبينا صلى الله پاس ہے۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عليه و سلم كل نبي مرفوعا إلى نبی کو کسی نہ کسی آسمان پر رفع کیا ہوا پایا۔ بلکہ بعض سماء من السماوات، بل وجد بعض انبیاء کو تو عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ارفع پایا۔ اور الأنبياء أرفع من عيسى عليه السلام آیت وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ میں ایک اور وفي آية: وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ بھی اشارہ موجود ہے اور وہ یہ کہ عیسائیوں نے یہ إشارة أخرى، وهو أن النصارى زعموا خیال کیا کہ گناہوں سے انہیں پاک کرنے کی أن عيسى صلب لأجل تطهيرهم خاطر عيسى صليب دیا گیا اور یہ یقین کر لیا کہ گویا من المعاصي، وظنوا كأنه حمل صلیب کے بعد اُس نے ان کے سب گناہ اپنی بعد الصلب جميع ذنوبهم على جان پر لے لئے۔ اور وہ اُن کے لئے کفارہ ہیں نفسه، وهو كفارة لهم ومطهرهم اور تمام گناہوں اور خطاؤں سے انہیں پاک من جميع المعاصى والخطيئات کرنے والے ہیں۔ پس صلیب کی نفی میں ففى نفى الصلب رد على النصاری عیسائیوں کا رڈ اور کفارہ کے عقیدہ کا توڑ ہے وهدم لعقيدة الكفارة، ومع ذلك اور اس کے ساتھ ساتھ یہودیوں کا رڈ اور اُن کے رد على اليهود واستيصال لكيدهم اُس (ناپاک) منصوبے کی بیخ کنی کرنا ہے جو الذي احتالوا اعتصاما بالتوراة، انہوں نے تورات سے اخذ کرتے ہوئے کیا۔ اور وإظهارا لبرية عيسى علیه السلام نیز اس میں عیسیٰ علیہ السلام کی ان اقوام کے من بهتان تلك الأقوام۔ فهذا هو بہتانوں سے بریت کا اظہار ہے۔ پس یہی وہ سبب السبب الذي ذكر الله قصة ہے جس کی بناء پر اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ صلب عيسى في القرآن و كَذَّبَه صلیب کو قرآن میں بیان فرمایا اور اُسے جھٹلایا۔ لے اور وہ یقینا اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے (کرمار ) سکے۔ (النساء: ۱۵۸)