حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 10

16 ١۶ علمیت اور حکمت اور دانائی ان کے کچھ کام نہ آئی ۔ مثنوی میں ایک قصہ بہت کمیاب تھا مہیا کیا گیا۔ تو اس کے پاس ایک اور زخمی سپاہی تھا۔ تھا گیا۔ تو جو نہایت پیاسا تھا وہ سر قلب سڈنی کی طرف حسرت اور طمع کے ساتھ دیکھنے کھا ہے کہ اک شخص دولتمند ھے مگربے چارے کی عقل کم تھی وہ ہیں لگا ۔ سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر خواہش دیکھ کر پانی کا وہ پیالہ خود نہ پیا بلکہ بطور جانے لگا اس نے گدھے پر بوری میں ایک طرف جواہر ڈالے اور وزن کو برابر کرنے کے واسطے ایک طرف اتنی ہی ریت ڈال دی ۔ آگے چلتے ہی چلتے اسے ایک شخص دانشمند ملا مگر کپڑے پھٹے ہوئے بھوک کا مارا ہوا ، سریہ پچھڑی نہیں ۔ اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جواہرات کو نصف نصف کیوں نہ دونوں طرف ڈالا ۔ اب ناحق جانور کو تکلیف دے نہ دونوں طرف ہے اب نا کو رہا ہے ۔ اس نے جواب دیا کہ میں تیری عقل نہیں برتا۔ تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے ۔ بلکہ میں تجھ بدبخت کا مشورہ بھی قبول نہیں کرتا۔ ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۸۴) مرنے کے وقت ریا کاری جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا اس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وہ ریا کاری کسے ملمع سے خالی نہیں ہوتے۔۔ ۔۔۔۔ خواجہ صاحب نے ایک نقل بیان کی تھی اور خود میں نے بھی اس قصہ کو پڑھا ہے کہ سر فلپ سڈنی ملکہ الز ہیتھ کے زمانہ میں قلعہ زلفن ملک ہالینڈ کے محاصرہ میں جب زخمی ہوا تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدت پیاس کے وقت جب اس کیلئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں } ایشیار یہ کہہ کہ اس سپاہی کو دے دیا کہ " تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے، مرنے کے وقت بھی لوگ ریا کاری سے نہیں رکتے ۔ ایسے کام اکثر ریا کاروں سے ہو جاتے ہیں جو اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ والے انسان ثابت کرنا یا دکھانا چاہتے ہیں ۔ ہمارا نقاره ملفوظات جلد اول صفحه ۲۱۳ ) اعداء کا وجود ہمارا نقارہ ہے ۔ یہ انہیں کی مہربانی ہے کہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں ۔ مثنوی ہیں ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے ۔ چور نے کہا کہ نقارہ بجا رہا ہوں ۔ اس تشخص نے کہا آواز تو نہیں ۔ چورنے کہ رہا ۔ گی اور نا چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنائی دیوے ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچاتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہوتی رہتی ہے ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۷۲)