غلبہء حق

by Other Authors

Page 83 of 304

غلبہء حق — Page 83

٨٣ پس الا ان یکون <mark><mark>نبی</mark></mark> کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مجد امت کے <mark><mark>نبی</mark></mark> ہونے کا امکان منافی ختم <mark>نبوت</mark> قرار نہیں دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب نزول المسیح میں اپنے تئیں مجددبھی قرار دیتے ہیں اور یہ بھی تحریر فرماتے ہیں :۔دین مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سر در ا<mark><mark>نبی</mark></mark>ا نے <mark><mark>نبی</mark></mark> اللہ رکھا ہے-" (نزول المسیح من ) پیس فاروقی صاحب کا احادیث نبویہ میں مسیح موعود کے لیے <mark><mark>نبی</mark></mark> اللہ ہونے کے الفاظ سے انکار دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریرات سے انحراف ہے جن میں حضور احادیث نبویہ کی بنا پر مسیح موعود کو <mark><mark>نبی</mark></mark> کہلانے کا ستحق قرار دیتے میں اور نیر سو سال میں کسی مجدد امت کو <mark><mark>نبی</mark></mark> کا نام پانے کا استحق قرار نہیں دیتے۔جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔فاروقی صاحب نے فتح حق ص پر آیت اهدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں اس کی قبولیت کا ذکر آیت ومن يطع الله و الرسول فاولئك مع الذين العمر الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين (سورة النساء ) من رج شدہ قرار دے کر لکھا ہے کہ : - رو و یہاں یوں نہیں فرمایا کہ وہ <mark><mark>نبی</mark></mark> صدیق وغیرہ ہو جاتے ہیں بلکہ فرما یا ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں یعنی ان کے رنگ میں رنگین ہو جاتے ہیں۔“ پھر دوسری جگہ فرمایا : - والذین امنوا بالله ورسله اولش هم