فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 295

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 73

فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 73 مامور من اللہ کی صداقت کے دلائل میں سے اس کے قومی بھی ہیں کیونکہ غیر محل پر وہ قوت نہیں دی جاتی اور اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور حکمت کہتے ہیں وَضْعُ الشَّيْءِ فِي مَحَلِهِ پس مامور من اللہ کے قولی کی بناوٹ ایک نرالی قوت رکھتی ہے۔ قسم قسم کی تلخیاں اور مصیبتیں ان پر آتی ہیں ۔ مگر خدا کی تسلی کی غذا ان کی زندگی کا موجب ہوتی ہے اور ان کے قومی کو ضعیف نہیں ہونے دیتی۔ ( الحکم ۲۴ جون ۱۹۰۴ء صفحه ۲ ) ( یہ اقتباس تا حال اصل ماخذ سے نہیں مل سکا )} (۹۳) قضاء عمری قضاء عمری پر سوال ہوا کہ جمعہ الوداع کے دن لوگ تمام نمازیں پڑھتے کہ گزشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ان کی تلافی ہو جاوے اس کا وجود ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا:۔ ایک فضول امر ہے مگر ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا کسی شخص نے حضرت علی کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں اسے منع کیوں نہیں کرتے۔ فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنایا جاؤں اَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی ہاں اگر کسی شخص نے عمد انماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضاء عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو کیوں منع کرتے ہو آخر دعا ہی کرتا ہے۔ ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے پھر دیکھو منع کرنے سے کہیں تم بھی اس آیت کے نیچے نہ آ جاؤ۔" الحکم نمبر 15 جلد 7 مؤرخہ 24 را پریل 1903 ء صفحہ (12) قضاء نماز ایک شخص نے سوال کیا کہ میں چھ ماہ تک تارک صلوۃ تھا۔ اب میں نے توبہ کی ہے۔ کیا وہ سب نماز میں اب پڑھوں؟ فرمایا:۔ "نماز کی قضا نہیں ہوتی ۔ اب اس کا علاج تو بہ ہی کافی ہے۔" اخبار بدر نمبر 7، 8 ، 9 جلد 8 مورخہ 24 تا 31 دسمبر 1908 ء صفحه (5)