فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 27
فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 27 ہے کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔" اربعین نمبر 3 روحانی خزائن جلد 17 صفحه 417 ، حاشیہ مطبوعہ نومبر 1984 ء ) (۲۵) جناب خان عجب خان صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی اور نا واقف ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں؟ فرمایا: " اول تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں اور جہاں ایسی صورت ہو کہ لوگ ہم سے اجنبی اور ناواقف ہوں تو ان کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کر کے دیکھ لیا۔ اگر تصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں۔ اکیلے پڑھ لو۔ خدا تعالیٰ اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے۔ پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الہی کی مخالفت ہے۔" الحکم نمبر 5 جلد 7 مورخہ 7 فروری 1903 ء صفحہ 13 (۲۶) غیر احمدی کے پیچھے نماز ہر گز نہیں ہوتی کسی کے سوال پر فرمایا:۔ " مخالف کے پیچھے نماز بالکل نہیں ہوتی ۔ پرہیز گار کے پیچھے نماز پڑھنے سے آدمی بخشا جاتا ہے۔ نماز تو تمام برکتوں کی کنجی ہے۔ نماز میں دعا قبول ہوتی ہے۔ امام بطور وکیل کے ہوتا ہے اس کا اپنا دل سیاہ ہو تو پھر وہ دوسروں کو کیا برکت دے گا۔" الحکم نمبر 28 جلد 5 مؤرخہ 31 جولائی 1901 ء صفحہ 4 (۲۷) ایسے لوگوں کی نسبت ذکر ہوا جو نہ مکفر ہیں نہ مکذب اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ دریافت